انوارالعلوم (جلد 9) — Page 514
انوار العلوم جلد 8 ۵۱۴ ذہب اور سائنس کا مرکب ہے تو کیا خدا باطل ہو گیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ خدا ان چیزوں کا خالق نہیں۔ یہ تو بچوں والا استدلال ہے۔ کیا اسباب آج معلوم ہوئے ہیں۔ کیا نطفہ کے اجزاء کا پہلے علم نہ تھا کہ رحم مادر میں جا کر بچہ بنتا ہے۔ تو اب اگر اس میں اسباب کی ایک اور کڑی معلوم ہو گئی تو اس سے خدا کی خالقیت کی کیوں نفی ہو گئی۔ مذہب نے سبب کا انکار کبھی نہیں کیا اور نہ یہ کہا ہے کہ صرف ایک سبب خدا ہی ہے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ مذہب تو اس بات کو منواتا ہے کہ اسباب کا لمبا سلسلہ ہے اور سب سے آخری سبب جو ہے وہ اللہ امالی ہے۔ فرماتا ہے۔ إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَا ۲۵ باریک در باریک اسباب ہیں اور پھر یہ سلسلہ خدا تک جاتا ہے۔ گویا آخری سبب (FINAL CAUSE) خدا ہے۔ ان لوگوں کی مثال جن کو اسباب کی تلاش کرنے سے خدا نہیں ملا اور اس کی ذات کا ہی انکار کر دیتے ہیں ایسی ہے۔ جیسے کوئی شخص دو چار ہاتھ مٹی کھود کر چھوڑ دے اور کے پانی نہیں نکل سکتا اس زمین کے نیچے پانی ہے ہی نہیں حالانکہ اگر وہ گہرا کھود تا تو اسے ضرور پانی مل جاتا۔ قرآن کریم نے خود اسباب کو تسلیم کیا ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر کام تدریجی ہے۔ اور اس کی نشوونما میں STAGES ہیں۔ چنانچہ فرمایا۔ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ - اے اے لوگو! تم دوبارہ اُٹھائے جانے کے متعلق شک میں ہو۔ تم کو معلوم نہیں ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفہ ہے۔ پھر اس کو حلقہ بنایا۔ پھر مصنفہ میں اس کو تبدیل کیا۔ اسباب کا وجود تو حقائق کے بیان کے لئے تھا۔ نہ اس لئے کہ ان کی نفی کرے۔ اسباب کے لمبے سلسلہ کی غرض دنیا کی تکمیل کے لئے تھی۔ خواہ کسی قسم کی تکمیل ہو۔ علمی یا عملی اس کے لئے STAGES ضروری ہیں۔ مختلف ترقی کے دور تھے۔ جن میں سے دنیا گزری ہے۔ یہ ہماری ترقی کے لئے ضروری تھے۔ اگر یہ دور مختلف نہ ہوتے تو ہم ترقی نہ کر سکتے۔ پھر لمبے سلسلہ کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ اشیاء ایک دوسرے کا اثر قبول کر سکیں۔ اور اپنے گردو پیش کے حالات سے مناسبت (ADOPTATION) پیدا کر سکیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسباب کا لمبا سلسلہ اور مختلف اشیاء کی ارتقائی STAGES ہماری ترقی کی غرض سے ہماری کمزوری کو مد نظر رکھ کر رکھی ہیں۔ ورنہ وہ تو اس بات پر قادر تھا کہ چند دنوں میں دنیا کی تکمیل کر دیتا اور اسباب کا سلسلہ بالکل نہ ہوتا۔