انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 514

۵۱۴ کا مرکّب ہے تو کیا خدا باطل ہو گیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ خدا ان چیزوں کا خالق نہیں۔یہ تو بچوں والا استدلال ہے۔کیا اسباب آج معلوم ہوئے ہیں۔کیا نطفہ کے اجزاء کا پہلے علم نہ تھا کہ رحم مادر میں جا کر بچہ بنتا ہے۔تو اب اگر اس میں اسباب کی ایک اور کڑی معلوم ہو گئی تو اس سے خدا کی خالقیت کی کیوں نفی ہو گئی۔مذہب نے سبب کا انکار کبھی نہیں کیا اور نہ یہ کہا ہے کہ صرف ایک سبب خدا ہی ہے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔مذہب تو اس بات کو منواتا ہے کہ اسباب کا لمبا سلسلہ ہے اور سب سے آخری سبب جو ہے وہ اللہ تعالیٰ ہے۔فرماتا ہے۔الی ربک منتھها۔۲۵؎ باریک در باریک اسباب ہیں اور پھر یہ سلسلہ خدا تک جاتا ہے۔گویا آخری سبب (FINAL CAUSE) خدا ہے۔ان لوگوں کی مثال جن کو أسباب کی تلاش کرنے سے ملا نہیں ملا اور اس کی ذات کا ہی انکار کر دیتے ہیں ایسی ہے۔جیسے کوئی شخص دو چار ہاتھ مٹی کھود کر چھوڑ دے اور کہے پانی نہیں نکل سکتا اِس زمین کے نیچے پانی ہے ہی نہیں حالانکہ اگر وہ گہرا کھود کر تو اسے ضرور پانی مل جاتا۔قرآن کریم نے خود اسباب کو تسلیم کیا ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر کام تدریجی ہے۔اور اس کی نشوونما میں STAGES ہیں۔چنانچہ فرمایا۔یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْؕ۔۲۶؎ اے لوگو! تم دوبارہ اُٹھائے جانے کے متعلق شک میں ہو۔تم کو معلوم نہیں ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔پھر ہے۔پھر اس کو حلقہ بنایا۔پھرمضغہ میں اس کو تبدیل کیا۔اسباب کا وجود تو حقائق کے بیان کے لئے تھا۔نہ اس لئے کہ ان کی نفی کرے۔اسباب کے لمبےسلسلہ کی غرض دنیا کی تکمیل کے لئے تھی۔خواہ کسی قسم کی تکمیل ہو۔علمی یا عملی اس کے لئے STAGE ضروری ہیں۔مختلف ترقی کے دور تھے۔جن میں سے دنیا گزری ہے۔یہ ہماری ترقی کے لئے ضروری تھے۔اگر یہ دور مختلف نہ ہوتے تو ہم ترقی نہ کر سکتے۔پھر لمبے سلسلہ کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ اشیاء ایک دوسرے کا اثر قبول کر لیں۔اور اپنے گرد و پیش کے حالات سے مناسبت (ADOPTATION) پیدا کر سکیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اسباب کا لمبا سلسلہ اور مختلف اشیاء کی ارتقائی STAGES ہماری ترقی کی غرض سے ہماری کمزوری کو مدنظر رکھ کر رکھی ہیں۔ورنہ وہ تو اس بات پر قادر تھا کہ چند دنوں میں دنیا کی تکمیل کر دیا اور اسباب کا سلسلہ بالکل نہ ہوتا۔