انوارالعلوم (جلد 9) — Page 515
۵۱۵ الہام کا ثبوت کہا جاتا ہے مذہب کی بنیاد الہام پر ہے مگر الہام محض دلی خیال کا نام ہے۔مذہب کے بانیوں نے سوچا کہ ہماری بات لوگ یوں نہ مانیں گے چلو خدا کی طرف منسوب کر دو تاکہ جلدی مان لیں۔گویا یہ مخفی ایک مصلحت وقت تھی اور چونکہ اس میں قومی نفع تھا اس لئے اپنے قلبی خیالات کا نام الہام رکھ لیا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ طبعی قانون سے الہام کی تصدیق نہ ہونا اس بات کا ہرگز ثبوت نہیں کہ الہام خدا کی طرف سے نہیں اور محض قلبی خیالات ہوتے ہیں۔طبعی قانون سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی جبھی تو اس کا نام الہام ہے۔ورنہ وہ طبعی اسباب کا نتیجہ ہوا۔اور اس کا نام سائنس رکھنا چاہئے نہ کہ الہام – الہام کی تصدیق طبعی قوانین سے نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وہ طبعی قوانین سے بالا ہے اور القاء ہے نہ کہ قلبی خیال۔اصل سوال یہ ہے کہ الہام لفظی ہو سکتا ہے یا نہیں۔قرآن کریم نے اس کے ثبوت میں خواب اور رؤیا کو پیش کیا ہے۔جس طرح انسان خواب میں بغیر خارجی محرک کے نظارے دیکھتا ہے اسی طرح یہ خیال بالکل ممکن ہے کہ بولنے کے بغیر الفاظ کان میں ڈالے جائیں اور وہ دل کا خیال نہ ہوں۔بتاؤ ایسا ممکن ہے یا نہیں کہ انسان اس قسم کا نظارہ دیکھ سکے۔یقینا ًہر ایک نے کبھی نہ کبھی اس قسم کا نظارہ دیکھا ہو گا۔چاہے وہ بخار کی حالت میں ہی دیکھا ہو۔اس نظارہ کو تم جھوٹا سمجھو یا سچا۔مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ واقعہ میں نظارہ ہوتا ہے اور دل کا خیال نہیں ہوتا۔یہ الگ بات ہے کہ تم اس کو جھوٹ کہو، تخیل سمجھویا بیماری کا نتیجہ خیال کرو۔پس ایسے نظارے دیکھے جاتے ہیں جن کا ثبوت شواہد سے ملتا ہے نہ کہ طبعی قوانین سے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغ میں ایسی کیفیت ہے جس سے ایسے نظارے معلوم ہو سکتے ہیں۔اور اگر آنکھ اس دماغی کیفیت سے نظارے دیکھ سکتی ہے تو کیا کان آواز نہیں سن سکتے۔یہ الگ سوال ہے آیا کہ وہ آواز جھوٹی ہے یا سچی۔بیماری کا نتیجہ ہے تخیل۔انسان کمرے میں الگ بیٹھا ہوا ہو تو بعض دفعہ اپنا نام کان میں پڑتا ہے۔یاجنگل میں اگر اکیلا ہو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اس کو بلا رہا ہے۔گو تم اس کو وہم ہی خیال کرو مگر یہ نا ممکن نہیں ہے۔پس ان نظاروں اور ان آوازوں کے متعلق ثبوت یہ مانگنا ہو گا کہ یہ وہم ہے یا خدائی الہام۔مثلاً میں اس وقت کھڑا ہوں اور مجھ کو ایسا معلوم ہو کہ کسی نے باہر سے آواز دی ہے ’’محمود"۔توتم مجھ کو پاگل خیال کر سکتے ہو۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جھوٹ کہہ رہا ہے۔مثلاً یہ کہ آواز کوئی نہیں آئی، اس کے دل کا خیال ہے۔