انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 513

۵۱۳ نہیں بنا رہا۔وہ تو بنا کر الگ ہو گیا ہے۔اگر ہم اس کو بناتے دیکھتے تو بتا دیتے کہ اس کا بنانے والا ہے۔خدا کس طرح کام کرتا ہے مگر در حقیقت یہ اعتراض غلط ہے کیونکہ دیکھا اس صانعکو جا سکتا ہے جو ہاتھ سے کام کر رہا ہو۔مگر جب کام ارادہ سے ہو رہا ہو تو دو وجود نہیں ملا کر تا۔مثلاً کسی کے کان میں چپکے سے کہہ دیا جائے کہ فلاں کام کرو۔تو دیکھنے والا کس طرح پتہ لگا سکتا ہے کہ کون کام کرا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی چونکہ ہاتھ سے کام نہیں کرتا بلکہ ارادہ سے کرتا ہے اس لئے صحیفہ قدرت کے اندر اس کو کام کرتے ہوئے دیکھنا بھی مشکل ہے۔خدا تعالی فرماتا ہے۔اذا ارادشیئا أن يقول له كن فيكون - ع ۲۳؎ وہ کام کن کے ذریعہ کرتا ہے نہ کہ ہاتھ سے۔اور ارادہ سے کام کرنے کی نہایت ادنی ٰ مثال مسمریزم کرنے والوں میں مل سکتی ہے جو اپنی توجہ سے اثر ڈالتے ہیں۔گو لبعض ہاتھ سے بھی PASSES کرتے ہیں مگر مخفی توجہ کا اثر بھی ہوتا ہے۔جس میں بغیر ہاتھ کی حرکت یا زبان سے کلمہ نکالنے کے اثر ہوا ایک دلچسپ تجربہ توجہ کا اثر معلوم کرنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا سکتا ہے کہ کسی لڑ کے کی آنکھیں بند کر کے اسے کمرے کے وسط میں چکر دے کر چھوڑ دو۔اس طرح جہات جو نسبتی چیز ہیں اس کے ذہن سے نکل جائیں گی۔اب سب مل کر اس پر اثر ڈالو اور ذہن میں تصور کرد کہ یہ مثلاً مغرب کی طرف چلے تو وہ لڑکا مغرب کی طرف چلنے لگ پڑے گا۔اب دوسروں کو یہ نظر نہ آئے گا۔کیونکہ کام توجہ اور ارادہ سے ہو رہا ہے نہ کہ ہاتھ سے۔خدا تعالی مخلوق کا سرچشمہ نہیں بلکہ خالق ہے۔سرچشمہ تلاش سے مل جایا کرتا ہے مگر خالی نہیں ملا کرتا۔مثلا ًدریائے راوی کے منبع کا پتہ لگانا ہو تو پانی کے کنارے چل پڑو آخر اس کا منبع مل جائے گا۔مگر خالق کو اس پر قیاس نہیں کرسکتے۔کیا قانون قدرت کا علم خدا کے خلاف ہے بعضوں کا یہ خیال ہے کہ قانون قدرت معلوم ہو گیا اور اس کے مخفی در مخفی اسباب کا علم ہو گیا تو بس خدا باطل ہو گیا اور اس کی ضرورت کی نفی ہو گئی۔مثلاً بچہ کی تحقیق ہے۔سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ نطفہ سے مختلف شکلیں بدل کر انسان بنتا ہے یا ڈارون ۲۴؎ (DARWIN) کی تھیوری نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان نے مختلف ارتقائی دوروں میں سے گزر کر یہ شکل اختیار کی ہے۔یا اگر یہ معلوم ہو گیا کہ پانی دو گیسوں ہائیڈروجن اور آکسیجن