انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 468

۴۶۸ ، عمل نہیں ہوا اور لوگوں کو مسلمانوں کے خوف سے ملک نہیں چھوڑنا پڑا تو معلوم ہوا کہ اسلامی ممالک میں جبر بھی نہیں ہوا۔جبر سے قتل کیا جانا چوتھی بات جو جبر کے نتیجہ میں پیدا ہونی چاہئے وہ مظلوم قوم کاقتل ہے۔یعنی اگر جبر کے نتیجہ میں لوگ نہ مذہب کو چھپائیں نہ اس کو بدلیں نہ ملک چھوڑیں تو پھر اگر واقعہ میں حاکم قوم ظالم ہے تو وہ اس ملک کے باشندوں کو بہ حیثیت قوم قتل کرتی ہے۔غرض جبر کے نتائج میں سے ایک نتیجہ قتل بھی ہے۔چنانچہ انگلستان میں جب جبر کیاگیاتو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو قتل کر ڈالا گیا۔ہسپانیہ میں تو صفایا ہی کر دیا گیا۔اور یہی حال اٹلی وغیرہ میں ہوا۔مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔لیکن کیا ہندوستان میں بھی ایسا ہوا؟ کبھی مسلمانوں نے ہندوؤں کو جبر کے ساتھ قتل کیا؟ سمجھ دار آدمی آپ ہی جواب دیں گے کہ نہیں پھر باوجود اس کے یہ کہنا کہ مسلمانون نے ہندوستان میں جبر کیا بالکل ناواجب ہے۔جبر سے جائیداد ضبط کرنا پانچویں بات جو جبر دلالت کرتی ہے وہ جائیداد ضبط کرلینا ہے۔جب کوئی قوم کسی پر جبر کرتی ہے تو ان کی جائیدادیں ضبط کر لیتی ہے اور ان کے پاس کچھ نہیں رہنے دیتی۔چنانچہ انگلستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب ایک وقت پروٹسٹنٹ فرقہ کا زور ہوا تو انہوں نے کیتھولک فرقہ سے تعلق رکھنے والے لارڈوں کی جائدادیں آئرلینڈ میں ضبط کر لیں اور ان کی جگہ پروٹسٹنٹ لارڈوں کو جا بسایا اور ان کی مدد کے لئے دوسرے لوگوں کو بھی وہاں آباد کر دیا اور ان کی حفاظت کے واسطے فوج بھی متعین کر دی۔تو جبر سے جائدادیں بھی ضبط کی جاتی ہیں۔لیکن ہندوستان میں بجائے اس کے جائدادیں دی گئیں اور نہ عرف عام لوگوں کو دی گئیں بلکہ مسلمان بادشاہوں نے مندروں اور شِوالوں کے لئے بھی بڑی بڑی جائدادیں دیں جو اس وقت بھی ان کے نام پر ہیں۔اسلام نے کسی جگہ جبر نہیں کیا یہ عجیب جبر ہے نہ ہندوستانی باشندوں کو مارا جاتا ہے نہ ان کی جائیدادیں ضبط کی جاتی ہیں؟ نہ وطن سے نکالا جاتا ہے اور نہ ہی ان ظالموں سے تنگ آکر اس ملک سے نکلتے ہیں نہ رسوم ادا کرنے سے روکا جاتا ہے نہ جبراً ان سے مذہب تبدیل کروا لیا جاتا ہے بلکہ وہ اسی طرح ہندو کے ہندو رہتے ہیں جس طرح مسلمانوں کے ہندوستان میں آنے کے وقت تھے اور اسی طرح اپنی رسوم بجالاتے ہیں اور بجالا رہے ہیں جس طرح وہ اسلامی حکومت کے زمانہ سے پہلے بجالاتے تھے۔پھر مجھے نہیں آتا کہ