انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 411

انوار العلوم جلد و لدا ا تظاری جلسه سالانه ۱۹۲۶ هو زیادہ زور کے ساتھ جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اے ہمارے دوستو! اور عزیزو! اس قوم کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ جس کا قائم کرنے والا کہتا ہے کہ سینکڑوں دفعہ مجھے قتل کیا گیا۔ جو کہتا ہے سو صد حسین است در گریبانم اس کو کون مارنے والے تھے ؟ کیا وہی نہ تھے جنہوں نے دین اسلام کے راستہ میں روکیں پیدا کیں۔ اگر آج ہندو قوم باوجود ہزاروں اختلافات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ہو جاتی ہے اس لئے کہ ایک لیڈر نے جان دی تو اے احمد یو! اگر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کو دفعہ جان دی تو کیا آپ ایک ہو ہو کر کر اسلام اسلام کی کی اشاعت اشاعت کا کا اقرار نہ کریں گے آپ کو اس نے اسلام اسلام کے پہرے دار مقرر کیا ہے اس لئے آپ پورے زور سے اس کی اشاعت میں لگ جائیں اور اس کی حفاظت کریں۔ یاد رکھو اگر اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہ کی تو اس کا وہی حال ہو گا جو سپین میں مسلمانوں کا ہوا۔ آج دنیا دلائل کے ساتھ فتح ہو سکتی ہے۔ اور دلائل کے ہتھیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اتنے دیتے ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے۔ آج اسلام کے لئے۔ لئے مشکلات کے دن ہیں۔ کل ایک دوست نے سوال کیا تھا کہ بیعت کا کیا مقصد ہے۔ بیعت کا مفہوم یہی ہے کہ وفادارانہ طور پر ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اقرار کیا جاتا ہے کہ ہم اسلام کے لئے مالوں اور جانوں کو قربان کریں گے۔ اور اس کام کے لئے ایک جماعت کی ضرورت ہے جو اسلام کے لئے رات دن ایک کر کے اپنے مال و جان قربان کر دے۔ اگر اسلام کی حفاظت اور اشاعت کوئی کام ہے تو اس کے لئے جماعت کی ضرورت ہے۔ اور جماعت بن نہیں سکتی جب تک کہ لوگ ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اقرار نہ کریں۔ جہاں میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں وہاں غیر احمدیوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ یہ دن امن کے دن نہیں ہیں۔ یہ زمانہ گھروں میں بیٹھنے کا زمانہ نہیں ہے۔ تم خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے جب تمہارے سامنے اسلام کی یہ حالت ہے۔ آج اللہ تعالی نے ایک ہاتھ بڑھایا ہے۔ اگر تمہیں اسلام سے کچھ بھی محبت ہے تو آؤ آج اس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اقرار کرو۔ اور دوسروں کے ساتھ مل کر سب کچھ قربان کر دو۔