انوارالعلوم (جلد 9) — Page 391
انوار العلوم جلد و ۳۹۱ حق اليقين بھی نہیں خیال کر سکتا کہ حضرت عمر کو شراب کی عادت تھی اور وہ اسے چھوڑتے نہ تھے اس لئے ان کو احکام سنائے جاتے تھے مگر وہ پھر بھی نہ مانتے تھے بلکہ الفاظ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر شراب کے مخالف تھے اور ان کے اس شوق کی وجہ سے رسول کریم ال ان کو شراب کے متعلق آیات سنایا کرتے تھے مگر چونکہ اس وقت تک قطعی حکم ممانعت کا نہ آیا تھا حضرت عمر خواہش کرتے کہ کاش اس سے بھی واضح الفاظ میں شراب حرام کی جائے تاکہ کوئی شخص اس کے قریب بھی نہ جائے۔ چنانچہ حدیث یہ ہے۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنٌ لَنَا فِي الْخَيْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتِ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْبَشِيرِ فَدْعِيَ عُمَرُ فَقُرِأَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتِ الَّتِي فِي النِّسَاءِ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَوَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى - فَدْعِيَ عُمَرُ فَقُرِأَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنُ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانَ شِفَاءٍ فَنَزَلَتْ الَّتِي فِي الْعَائِدَةِ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ إِلَى قَوْلِهِ فَهَلْ أَنتُمْ تُنْتَهُونَ - قَدُ عِيَ عُمَرُ فَقُرِأَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ إِنْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا - "الے یعنی عمر بن الخطاب کی روایت ہے کہ آپ نے کہا کہ اے اللہ ہمارے لئے شراب کا مسئلہ اس طرح بیان کر دے کہ پھر اور حاجت نہ رہے اس پر سورۃ بقرہ کی آیت يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ (تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو کہہ دے کہ ان سے پیدا ہونے والا گناہ ان کے نفع سے زیادہ ہے) نازل ہوئی اس پر عمر کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی مگر انہوں نے اس آیت کو سن کر پھر بھی یہ کہا کہ اے اللہ ! ہمارے لئے شراب کے متعلق کوئی ایسا حکم دے جو بالکل واضح ہو کہ کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو اس پر سورہ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی کہ اے مومنو! جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ اس پر عمر کو پھر بلایا گیا اور یہ آیت سنائی گئی مگر آپ نے پھر یہی کہا کہ اے خدا! کوئی واضح حکم جس کے بعد تاویل کی گنجائش نہ رہے شراب کے بارہ میں بیان کی۔ اس پر مائدہ کی یہ آیت اتری کہ شیطان تو شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تم میں عداوت اور بعض ہی پیدا کرنا چاہتا ہے اور اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکنا چاہتا ہے پھر کیا تم ( شراب اور جوئے سے) باز آؤ گے؟ (یا نہیں؟) اس پر حضرت عمر نے کہا اب ہم باز آگئے ہم باز آگئے۔ اس حدیث کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عمر شراب کے مخالف تھے کیونکہ حدیث میں صاف بیان ہے کہ جس وقت شراب کے متعلق ابھی کوئی حکم نہ آیا تھا اس وقت حضرت عمر دعا !