انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 390

۳۹۰ مصنّف ہفوات اپنی اندرونی کیفیت کی وجہ سے اس خیال کی طرف تو چلے گئے کہ حضرت عمر کی سمجھ میں جو بات آئی حضرت نبی کریم ﷺ کی سمجھ میں نہیں آئی مگر ادھر ذہن نہ گیا کہ حضرت عمر چونکہ رسول کریم ﷺ کا مفہوم اچھی طرح سمجھ گئے تھے اس لئے آپ نے اس اعلان کرانے کی ضرورت نہ سمجھی تا نااہل لوگ دھوکا نہ کھائیں۔مصنف صاحب ہفوات نے اس جگہ اپنے بعض کے اظہار کے لئے یہ طریق بھی اختیار کیا ہے کہ بزعم خود حضرت عمر کے چند عیوب بیان کر کے لکھے ہیں کہ کیا ایسا شخص رسول کریم کی بات کو ردّ کر سکتا تھا؟ میں جیسا کہ بتا چکا ہوں رسول کریم ﷺکی بات کے رد کرنے کا اوپر کے واقعہ سے کوئی ثبوت ہی نہیں ملتا بلکہ آپ کی حقیقی تعلیم کے سمجھنے اور اس کی تصدیق کرنے کا علم ہوتا ہے۔پس یہ تو سوال ہی نہیں۔باقی رہا یہ کہ حضرت عمر حضرت رسول کریم ﷺ سے ڈرتے تھے یہ عیب کی بات نہیں خوبی ہے۔میں اس شیعہ کو دیکھنا چاہتا ہوں کہ جو یہ کہے کہ حضرت علی رسول کریم ﷺسے نہیں ڈرتے تھے۔نبیوں سے ڈرنا عین ایمان کی علامت ہے اور صرف بے ایمان ہی اس جذبہ سے خالی ہو تا ہے جس طرح اللہ تعال پر ایمان خوف ورجاء کے درمیان ہے اسی طرح نبیوں پر ایمان بھی خوف و محبت کے درمیان ہے۔جب تک دونوں جذبات نہ پائے جائیں ایمان کامل ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن جب یہ ہے کہ مصنف ہفوات اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے جو مثال پیش کرتے ہیں وہ حد درجہ کی کمزور اور بودی ہے وہ تفسیر حسینی اور ترمذی کے حوالہ سے اول تو یہ بیان کرتے ہیں کہ جو آیت حرمت شراب کے متعلق نازل ہوتی تھی وہ حضرت عمر اور معاذ کو خاص طور پر بُلا کر سِنائی جاتی تھی۔لیکن آپ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اے خدا! حرمت شراب کے بارے میں اور واضح بیان نازل فرما۔لیکن جب وہ نہ مانے پر جو کچھ ہوا وہ بقول مصنّف یہ تھا کہ حضرت عمر شراب سے باز نہ آئے اور آخر رسول کریم ﷺنے ان کو مارا اور تب جا کر وہ باز آئے۔مذکورہ بالا بیان میں مصنف ہفوات نے یہ اعتراض کئے ہیں۔اول حضرت عمر شراب پیا کرتے تھے دوم ان کی حالت کو دیکھ کر رسول کریم ﷺ خاص طور پر بُلا کر انہیں احکام وحرمت سنوايا کرتے تھے۔سوم باوجود اس کے وہ باز نہ آتے اور یہی کہتے جاتے تھے کہ خدایا حرمت شراب کے حکم کو اور بھی واضح کر۔مجھے ہفوات کے مصنف پر تعجب ہے کہ یہ صریح کلام کی موجودگی میں ہمیشہ اُلٹی چال چلتے ہیں اور غلط معنے ہی لیتے ہیں اصل حدیث کو دیکھ کر کوئی شخص ایک منٹ کے لئے