انوارالعلوم (جلد 9) — Page 392
۳۹۲ حق الیقین کیا کرتے تھے کہ خدایا شراب کے متعلق کوئی حکم نازل فرما۔اگر وہ شراب کے خواہشمند تھے تو انہیں اس دعا کی کیا ضرورت تھی؟ شراب تو پہلے ہی ملک میں رائج تھی اور سب لوگ اس کو استعمال کرتے تھے پھر اس کی حِلت کے لئے دعا کرنے کی انہیں کیا ضرورت تھی؟ جو چیز ملک میں پہلے ہی سے رائج ہو اور اس سے منع نہ کیا گیا ہو گیا اس کامشتاق یہ دعا کر سکتا ہے کہ خدایا اس کے بارہ میں کوئی واضح حکم ہے۔یہ دعا تو صرف وہی کر سکتا ہے جو اس چیز کو رُکوانا چاہتا۔پس جب کہ شراب کی ممانعت نہ خدا تعالی کی طرف سے تھی نہ رسول کی طرف سے حضرت عمر کا خدائی حکم کے لئے دعا مانگنا صاف بتاتا ہے کہ آپ اس کے حرام کئے جانے کی دعا کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ جب ایک آیت اس بارے میں اُتری تو رسول کریم ﷺنے خاص طور پر انہیں بلا کر سنائی۔تا انہیں خوشی ہو کہ میری خواہش اللہ تعالیٰ کی مرضی کے ساتھ مل گئی۔مگر چو نکہ ملک میں شراب کا بہت رواج تھاحضرت عمرسمجھتے تھے کہ شراب اس طرح نہ رُکے گی۔انہوں نے پھر دعا کی کہ خدایا اسے اور واضح کر۔اس دفعہ کی دعاسے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ شراب کے مخالف تھے کیونکہ جب خداتعالی نے یہ فرمایا تھا کہ شراب میں نقصان زیادہ ہے تو اور بھی وضاحت کی خواہی کے یہی معنے ہیں کہ صرف یہ نہ فرما کہ اس میں نقصان ہیں بلکہ اس کو منع فرما۔اگر وہ شراب کی تائید میں ہوتے تو اس موقع پر چاہئے تھا کہ یہ دعا کرتے کہ اے خدا! شراب کی خوبیاں بیان فرما اور اس آیت کو منسوخ کر دے مگروہ تو وضاحت چاہتے ہیں اور بُری چیز کے متعلق حکم کی وضاحت اس کی حرمت کے ذریعہ سے ہی ہو سکتی ہے۔جب ایک اور آیت نازل ہوئی کہ نشہ کے وقت نماز کے قریب نہ جاؤ (میں ان معنوں کو حدیث کے الفاظ کی بناء پر لے رہا ہوں ورنہ میرے نزدیک اس آیت کے معنی بالکل اور ہیں) تو پھر آپ نے وہی خواہش ظاہر کی کہ اس سے بھی واضح حکم ہو۔آخر صاف الفاظ میں جب ممانعت ہوئی تو آپ کی تسلی ہو گئی۔غرض الفاظ حدیث واضح طور پر بتاتے ہیں کہ حضرت عمر شراب کے مخالف تھے اور یہ جو آخر حدیث میں لفظ ہیں کہ ہم باز آگئے باز آگئے ان سے مراد خود حضرت عمر نہیں بلکہ مسلمان بحیثیت قوم ہیں اور ان الفاظ کے یہ معنے ہیں کہ اب ہماری قوم باز آجائے گی کیونکہ حکم صاف طور پر نازل ہو گیا ہے اور اب کسی کو تاویل کی گنجائش نہ رہے گی ورنہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص شراب کی حرمت کی خواہش رکھتا ہو وہ خود شراب پیتا ہو اور باز آجانے سے اس کی مراد اپنانفس ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اس جواب سے ہر شخص پر مصنف ہفوات کے اعتراض کی لغویت ظاہر ہو جائے گی۔اور جو ان کی دھمکی ہے کہ حضرت عمر کے بازنہ