انوارالعلوم (جلد 9) — Page 389
۳۸۹ جائیں تو یہ درست ہے لیکن ممکن ہے کہ لوگ اس کے معنے غلطی سے کچھ اور لے لیں اور اسلام میں رخنہ اندازی کریں۔چونکہ آپ جانتے تھے کہ جس نکتہ کو رسول کریم ﷺسمجھانا چاہتے ہیں عام لوگ اسے پہلے ہی آپ کی تعلیم کے اثر سے سمجھ چکے ہیں اور عوام ان الفاظ سے دھوکا کھا سکتے ہیں اس لئے آپ نے حضرت ابو ہریرہ کو رو کا۔حضرت ابو ہرہرہ جو کہ اس باریک بینی سے حصہ نہ رکھتے تھے جس سے عمرؓ۔انہوں نے نہ مانا اور اس پر حضرت عمر نے ان کو دھکا دے کر واپس کرنا چاہا اور وہ گر گئے ورنہ عقل اس امر کو پاور نہیں کر سکتی کہ بغیر کچھ بات کہنے کے حضرت عمرنے ابو ہریرہ کو مارا ہو۔غرض جب رسول کریم ﷺکے پاس پہنچ کر آپ نے حقیقت کا اظہار کیا تو رسول کریم ﷺنے آپ کی بات کو تسلیم کرلیا۔اور آپ کا تسلیم کر لینا ہی بتاتا ہے کہ حضرت عمر کے خیال کو آپ نے صحیح سمجھا۔باقی رہا یہ خیال کہ کیا رسول کریم اﷺ نے اس بات کا خیال نہ کیا جس کا حضرت عمر نے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کا تعلق لوگوں سے اور قسم کاتھا اور حضرت عمر کا اور قسم کا۔حضرت عمر چونکہ بے تکلفی سے لوگوں میں ملتے تھے آپ اس گروہ سے واقف تھے جو اپنی بے ایمانی یا عقل کی کمزوری کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی باتوں کو غلط رنگ دینے یاغلط طور پر سمجھنے کی مرض میں مبتلاء تھا۔پس جب انہوں نے رسول کریم ﷺ کو ان لوگوں کی طرف توجہ دلائی کہ ایسے لوگ اس حدیث کو سن کر عمل ہی چھوڑ بیٹھیں گے تو آپ نے بھی ان لوگوں کو ٹھوکرسے بچانے کے لئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ حضرت عمرے لوگ اس مسئلہ کو سمجھ ہی چکے ہیں پس یہ صداقت مسلمانوں میں سے مٹے گی نہیں اپنے حکم کو منسوخ کر دیا اور ان الفاظ میں اعلان کرانے کی ضرورت نہ سمجھی جن الفاظ میں اعلان کرنے کا حکم کہ اس سے پہلے آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کو دیا تھا۔غرض یہ حدیث ہرگز قابل اعتراض نہیں ہے اور اس پر اعتراض صرف جہالت سے پیدا ہے جو تدبر کرنے والے لوگ ہیں یہ جانتے ہیں کہ اس حدیث سے بجاے اعتراض کے صحابہ کا درجہ عظیم ظاہر ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ (1) وہ لوگ دین کے لئے غیرت رکھتے تھے اور رسول کریم ﷺ کے تعلیم کے مغز کی حفاظت پر بہت حریص تھے (۲) یہ لوگ آپ کے اشارات کو خوب سمجھتے تھے اور پیشتر اس کے کہ آپ بِالوضاحت کسی امر کو بیان کریں آپ کے کلام کی تمہیدات سے ہی آپ کے مطلب کو سمجھے جاتے (۳)۔کہ رسول کریم ﷺکو ان لوگوں کے اخلاص پر پورا یقین تھا اور آپ ان کے مشوروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔تعجب ہے کہ