انوارالعلوم (جلد 9) — Page 388
۳۸۸ اور جنگ خیبر کے درمیان کے زمانہ میں۔دوسرے جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے اور دوسری تاریخی شہادتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے یہ واقعہ رسول کریم ﷺ کی وفات سے صرف دو سال پہلے کا ہے جب کہ مدینہ پر بعض مسیحی قبائل کے حملہ کی افواہیں گرم تھیں ان ایام میں رسول کریمﷺ کا ذرا بھی آنکھوں سے اوجھل ہونا مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کر دیتا تھا۔پس جو واقعہ کہ عرب کی فتح کے بعد اور مشرکوں کے مغلوب ہو جانے کے بعد ہوا ہے۔اس کی نسبت یہ کہنا کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ سرِدست اتنا کافی ہے کہ لا الہ الاالله کہہ دو کس قدر حماقت اور بے وقوفی کی بات ہے۔کیا اس قسم کی آسانیاں ابتداء میں دی جاتی ہیں یا آخر میں؟پس اس حدیث کا مطلب ہرگز نہیں جو مصنّف ہفوات نے سمجھاہے۔اور اسی غلط مطلب کانتیجہ ہے کہ انہیں دخل الجنة کا ترجمہ یہ کرنا پڑا ہے کہ داخل امن ہے اس کی جان ومال کو کوئی جوکھوں نہیں۔جنت کا یہ ترجمہ خود مصنّف ہفوات کی پریشانی پر دلالت کرتا ہے نعماء دینوی کانام تو بے شک جنت رکھا جا سکتا ہے لیکن یہ مضمون بیان کرنے کے لئے کہ ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے جنت کے لفظ کا استعمال صرف انہی کے دماغ کی اختراع ہے۔جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو صرف لا الہ الا الله کہدے وہ جنت میں داخل ہو جائے گانہ یہ مطلب کہ اسے ہم کچھ نہیں کہیں گے تو اب سوال یہ ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا؟ سو یاد رکھنا چاہے کہ ہر ایک تعلیم کا ایک مرکزی نکتہ ہوتا ہے اور اختصار کے لئے کبھی اس مرکزی نکتہ کو بیان کر دیا جاتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام تفصیلات اس کے اندر شامل ہیں اور یہی نکتہ جسے سمجھانے کے لئے رسول کریم ﷺنے حضرت ابو ہریرہ کو بھیجا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی کے مقام پر توحید کے حقائق پر غور کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ کو جوش پیدا ہوا ہے کہ میں ایک نئے رنگ میں امت کو توحید کے نکتہ مرکزی ہونے کی طرف توجہ دلاؤں اور اس کے لئے آپ نے یہ طریق اختیار کیا کہ ایک صحابی کو اس کا اعلان کرنے کے لئے مقرر کر دیا۔حضرت عمر راستے میں ملے تو آپ کو دو خیال پیدا ہوۓ (۱) اگر اس پیغام کو محدود معنوں میں لیا جائے (جن معنوں میں کہ مصنف ہفواتن ے قلت تدبیر کی وجہ سے لیا ہے) تو وہ درست نہیں رسول کریم ﷺکبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف لا الہ الاالله کا کافی ہے جب کہ قرآن و تعلیم رسول کریم ﷺ ان معنوں کو رد کر رہے ہیں۔پس ایو رو رضي الله عثا کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اور ان کو روکنا ضروری ہے (۲) اگر اس کی بجائے اس کے عام معنے لئے