انوارالعلوم (جلد 9) — Page 347
۳۴۷ جس بات کو مصنف ہفوات نے چھپایا ہے میں اس کو ظاہر کر دیتا ہوں کہ عقیلی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں امضغیہ ثم أتيني به أمضغہ لکی يختلط ريقی بريقک لكى يهون على عند الموت ۷۳؎ تک اس کے معنے بے شک یہ کئے جا سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے مسواک چبا کر دے تا موت کے وقت کا حال مجھ پر آسان ہو۔لیکن اس کے بھی یہ معنے نہیں نکل سکتے کہ لُعاب عائشہؓ میں کوئی ایسی برکت تھی جبکہ زیادہ سے زیاد ہ یہ معنی نکلیں گے کہ آپ کو چونکہ عائشہ سے محبت تھی اور پیاروں کا قرب انسان کی تسلی کا موجب ہوتا ہے اس لئے جس طرح آپ بھی اس جگہ منہ لگا کر پانی پی لیتے تھے جس جگہ منہ لگا کر عائشہؓ نے پیا ہو اسی طرح آپ نے اس وقت ایسی خواہش کی۔مگر میرے نزدیک حق یہی ہے کہ یہ روایت باطل ہے۔کیونکہ گو اس روایت سے قطعی طور پر وہی معنے نہیں نکلتے جو مصنّف ہفوات کئے گئے ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو معنے بھی اس کے کئے جائیں وہ واقعات کے خلاف ہیں۔بخاری کی روایت جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں اور دوسری روایات جن کو میں نے بخوف طوالت نقل نہیں کیا یہ روایت ان کے خلاف ہے۔اور اس لئے قابل اعتبار نہیں۔بخاری اور دوسری معتبر کتب حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایسے ضعیف ہو چکے تھے کہ اس قدر بھی گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔بخاری کی حدیث میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عائشہ کے دریافت کرنے پر کہ کیا آنحضرت صلی الله علیہ وسلم مسواک لینا چاہتے ہیں؟ آپ نے منہ سے ہاں نہیں فرمایا بلکہ سر کا اشارہ فرمایا اور پھر جب آپ چبا نہیں سکے تو خود منہ سے نہیں فرمایا کہ اس کو چبا دو بلکہ حضرت عائشہ ؓکے پوچھنے پر بھی سر سے فرمایا کہ ہاں چبادو۔پس جب کہ خود حضرت عائشہ کی روایت معتبر کتب احادیث میں یوں درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک چبانے کے لئے منہ سے کچھ نہیں کہا بلکہ صرف سر ہلایا۔تو عقیلی کی روایت جس میں ایک فقرہ کافقرہ درج ہے کس طریا درست ہو سکتی ہے؟ اور جب کہ وہ روایت اہل سنت کی معتبر کتب کی روایات کے خلاف ہے تو اسے ائمہ حدیث اور اہل سنت کے خلاف کس طرح استعمال کیا جاسکتاہے۔