انوارالعلوم (جلد 9) — Page 346
۳۴۶ حق الیقین اپنے منہ میں مسواک کرنی شروع کردی۔دو طرح اور بھی بخاری میں روایت آتی ہے۔لیکن مفہوم میں ہے۔اس امر کا کہیں بھی ذکر نہیں کہ عائشہ کی مسواک کرنے سے آپ پر سکرات موت کی سہولت ہو گئی جب کہ مصنف ہفوات نے بخاری کو بہ نیت اعتراض پڑھا تھا تو ضرور اس روایت پر بھی ان کی نظر پڑی ہو گی۔پھر اس کو چھوڑ کر فردوس آسیہ کی طرف توجہ کرنے کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ اس حدیث پر اعتراض نہیں پڑ سکتا تھا بلکہ اگر وہ اس حدیث کو نقل کر دیتے تو اس سے اعتراض ہی ردّ ہو جاتا کیونکہ اس حدیث میں اس روایت کے بالکل خلاف مضمون ہے۔فردوس آسیہ کی عبادت سے مصنّف ہفوات نے یہ مطلب نکالا ہے کہ گویا حضرت عائشہ کی برکت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکرات میں کمی ہوئی حالانکہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ اس کو ایک فخر سمجھتی ہیں کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت میں خدمت کا موقع ملا۔بخاری میں اسی موقع کے متعلق ایک اور روایت ہے اور وہ بھی حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔اس سے اس بہتان کی قباحت اور فضاحت اور بھی زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔کتاب فضائل القرآن میں امام بخاری حضرت عائشہ سے باب المعوذات کے نیچے ایک روایت لکھتے ہیں جو یہ ہے عن عائشة أن رسول الله ملى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى يقرأ على نفسه بالمعوذات وينفث فلما اشتد وجعه كنت أقر عليه واسمح بیدہ رجاء بر کتها ترجمہ۔حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی بیماری ہوتی آپاپنے جسم پر معوّذات پڑھ کر پھونک لیا کرتے۔پس جب آپ کی بیماری بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ کا ہاتھ جسم پر پھیر دیتی اور آپ کا ہاتھ اس لئے پھیرتی تابرکت ہو۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ ؓیا ائمہ حدیث کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ بات نہ تھی کہ حضرت عائشہ کو ایسی برکت حاصل تھی کہ ان کے لُعاب کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب سے مل جانے سے آپ پر سکرات موت آسان ہو جائیں گے۔اگر یہ بات ان کے ذہن میں ہوتی اور وہ بقول مصنف بفوات اس خیال کے پھیلانے کے خواہش مند ہوتے تو وہ مذکورہ بالا حدیث کو کیوں اپنی کتب میں درج کرتے۔خلاصہ یہ کہ صحیح احادیث میں یہ بات کہیں بھی بیان نہیں ہے کہ حضرت عائشہؓ کو رسول کریم نے فرمایا کہ مجھے مسواک اس لئے چباکر دے کہ مجھ پر سکرات موت آسان ہو جائے گی۔