انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 209

انوار العلوم جلد 9 ۲۰۹ منهاج الطالبين خطاب حضرت خلیفہ السیح الثانی فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۲۵ء بر موقع جلسه سالانه ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ چونکہ مجھے کھانسی کی تکلیف تھی اس وجہ سے کل کی تقریر اور آج کی تقریر کرنے سے جو عورتوں میں کی گئی میرا گلا بیٹھ گیا ہے لیکن احباب گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو اُن تک آواز پہنچ کی میرا ہے اللہ چاہے تو گلا گیاہے جائے گی۔ میں اصل تقریر شروع کرنے سے پہلے دوستوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ذکر الہی کی عظمت کو اچھی طرح سمجھیں۔ یہاں وہ کسی تماشہ اور کھیل کے لئے جمع نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کا بلکہ ذکر کرنے اور اس کا نام لینے کے لئے آتے ہیں اس لئے ذکر الہی کے آداب کو مد نظر رکھنا چاہئے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض دوست اس ادب کو مد نظر نہیں رکھتے اور بلاوجہ اور بلا سبب جلسہ گاہ سے اُٹھ کر باہر چلے جاتے اور ادھر ادھر باتیں کرتے رہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جلسہ پر ایک کافی تعداد جو آٹھ سو اور ہزار کے قریب ہوتی ہے غیر احمدیوں کی ہوتی ہے اور وہ لوگ اپنے نفس پر جبر کر کے وعظ سننے کے عادی نہیں ہوتے اور ان کا کثیر حصہ جلسہ گاہ میں آتا اور جاتا رہتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ وہی لوگ آنے جانے والے نہیں ہوتے بلکہ بعض احمدی بھی اس جلسہ گاہ سے باہر چلے جاتے ہیں کہ چلو ان کو باہر جا کر تبلیغ کریں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے مذہب میں انسان پر سب سے بڑا فرض اپنی جان کا ہوتا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول کریم ا نے فرمایا کہ جس وقت اپنی ہدایت کی فکر میں ہو اگر کوئی دوسرا گمراہی میں پڑتا ہے تو پڑنے دو اپنی ہدایت کی فکر دوسر دوسرے کی خاطر چھوڑ نہ دو۔ اسے دین کے لئے مال قربان کیا جاتا ہے اور جان قربان کی جاتی ہے مگر دین وہ چیز ہے کہ ساری دنیا کی خاطر قربان کرنے کے لئے کوئی مؤمن تیار نہیں ہو سکتا۔ پس اگر کسی مجبوری کی وجہ سے جلسہ گاہ سے اُٹھنا پڑے اور بعض دفعہ ایسی مجبوریاں پیش آجاتی ہیں جیسے قضائے حاجت کے لئے جانا تو بے شک جاؤ مگر فارغ ہو کر جلدی واپس آ جانا چاہئے