انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 208

۲۰۸ (۴) اللہ تعالیٰ سے خاص محبت رکھتا ہو جو سب محبتوں پر غالب ہو۔پہلے امر کا معیار یہ ہے کہ (۱) جب بچہ بڑا ہوتو امورِ شرعیہ کی لفظاً و عملاً وعقیدۃً پابندی کرے۔(۲) اس کی قوت ارادی مضبوط ہوتا آئندہ فتنہ میں نہ پڑے (۳) اس کا اپنی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا اور جان بچانے کی قابلیت رکھنا۔(۴) اپنے اموال و جائیداد بچانے کی قابلیت کا ہونا اور اسکے لئے کوشش کرنا۔دوسرے امر کا معیار یہ ہے: (۱) اخلاق کا اچھا نمونہ پیش کرے۔(۲) دوسروں کی تربیت اور تبلیغ میں حصہ لے۔(۳) اپنے ذرائع کو ضائع ہونے نہ دے بلکہ انہیں اچھی طرح استعمال کرے جس سے جماعت و دین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔تیسرے امر یعنی قانونِ سلسلہ کے مطابق چلنے کی طاقت رکھنے کا یہ معیار ہے :(۱) اپنی صحت کا خیال رکھنے والا ہو۔(۲) جماعتی اموال اور حقوق کا محافظ ہو۔(۳) کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے دوسروں کے حقوق کو نقصان پہنچے۔(۴) قومی جزا اور سزا کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔چوتھے امر کا معیار یہ ہے: (۱) کلام الٰہی کا شوق اور ادب ہو (۲) خدا تعالیٰ کا نام اُسے ہر حالت میں مؤدّب اور ساکن بنادے۔(۲) دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے بکلی الگ ہو۔(۴) خدا کی محبت کی علامات اس کے وجود میں پائی جائیں۔اب بچہ کی تربیت کرنے کے بعد یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ جن میں گناہ پیدا ہو گیا اُن سے کس طرح دور کرایا جائے؟ یہ کل بیان کروں گا۔