انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 210

۲۱۰ کیونکہ کیا معلوم ہے کہ کب وہ گھڑی آجائے جس کے لئے انسان ساری عمر کوشش کرتا رہتا ہے۔ایک گھڑی ایسی آسکتی ہے کہ اُسوقت ایک کلمہ انسان کو کافر سے مومن بنا دیتا ہے۔اُسے شیطانی سے رحمانی بنا دیتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہی دیکھ لو۔آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے مگر ایک بات انکے کان میں ایسی پڑ گئی جس نے اُن کی حالت بالکل بدل دی۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قتل کے لئے نکلے کہ انہیں معلوم ہوا اُن کی اپنی بہن مسلمان ہو چکی ہے۔اِسپر اپنی بہن کے ہاں گئے اور گھر میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے سُنا۔غصّہ میں آکر اندر گھس گئے اور اپنے بہنوئی کو مارنے لگے۔اسپر بہن بچانے لگی تو اس کے بھی چوٹ آئی۔اِس حالت کو دیکھ کر اُن کے دل میں کچھ ندامت پیدا ہوئی تھی کہ بہن نے کہا کہ عمر! تم ہم پر اسلئے ناراض ہوتے ہو کہ ہم نے ایک خدا کو مانا ہے یہ سُن کر وہ سر سے پائوں تک کانپ گئے اور اپنی بہن سے کہا۔جو تم بڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی سنائو۔اُنکی بہن نے کہا۔پاک ہو کر آئو تو سُنائئیں۔وہ نہاکر آئے اور اُن کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی گئی۔جسے سُنکر اُن کے آنسو رواں ہو گئے اور سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آئے۔آکر دستک دی جب معلوم ہوا کہ عمر ہیں تو بعض نے کہا دروازہ نہیں کھولنا چاہئے وہ سخت آدمی ہیں۔نقصان نہ پہنچائیں۔حضرت حمزہؓ نے کہا کہ اگر مخالفت کی نیت سے آئے ہیں تو ہمارے پاس بھی تلوار ہے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اندر آنے کی اجازت دے دی۔جب سامنے آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔عمرؔ! کب تک مخالفت کرتے رہو گے۔اس پر انہوں نے کہا مَیں تو غلامی کے لئے آیا ہوں۔اب دیکھو انہیں کس طرح ہدایت نصیب ہوئی؟ اگر وہ اس مجلس میں نہ جاتے تو شاید عمرؔ ایمان سے محروم رہتے۔آپ لوگوں کے لئے سارا سال آرام کرنے کے لئے پڑا ہے۔اس لئے یہ چند دن کی تکلیف اُٹھا کر بھی خدا تعالیٰ کا کلام سُننا چاہئے اور کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہئے۔دوسری بات مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ مَیں نے کل بتایا تھا میں نے قرآن کریم کے ترجمہ کا کام شروع کیا ہوا ہے اور خدا کے فضل سے ۲۰؍دسمبر کو سورۂ بقرہ کا ترجمہ ختم ہو گیا ہے۔اور اُمید ہے کہ اگلے سال ساڑھے سات پاروں کی پہلی جلد شائع ہو جائیگی۔مَیں چاہتا ہوں کہ احباب دُعا کریں۔بغیر اس کے کہ اس کام میں کوئی روک پیدا ہو مَیں اس کام کو سر انجام دے کر اس فرض سے سُبک دوش ہو جائوں اور تفسیر اور ترجمہ دوستوں تک پہنچا سکوں۔تیسری بات مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل مَیں نے مالی مشکلات کی طرف جماعت کو توجہ دلائی