انوارالعلوم (جلد 9) — Page 362
۳۶۲ درست ہے لیکن تفاصيل شرعیہ ہمیشہ سند سے معلوم ہوتی ہیں۔لیکن مصنّف صاحب ہفوات کا معاملہ بالکل اُلٹ ہے وہ اپنی عقل سے ایک مسئلہ تجویز کرتے ہیں اور اس سے نص صریح کو رد کر دیتے ہیں اور نص بھی وہ کہ جو عقل سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ تفاصیل شریعت سے تعلق رکھتیہے۔کل کو آپ کہہ دیں گے کہ ظہر کے وقت جب کام کا یا آرام کا وقت ہوتا ہے ظہر کی چار رکعت قرار دینا خلاف عقل ہے اصل میں دو چاہئیں اور فلاں حدیث میں جو یہ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت ظہر کے وقت ادا کیا کرتے تھے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہے کہ گویا آپ دو کی بجائے چار پڑھ کر اپنی نماز فاسد کر دیتے تھے۔پس ان محدثین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ظلم عظیم کیا ہے اور اسکی سب احادیث اور روایات قابلِ إحراق اور اخراج اور تنسیخ اور محد ثین قابلِ تکفیر و تفسیق ہیں۔برایں عقل و دانش بباید گریست۔بوسہ کو روزہ میں مکروہ قرار دینا علماء کا اجتہاد ہے اور وہ اجتہاد بھی مشروط یعنی روزہ میں جو ان کو بوسہ لینا مکروہ ہے کیونکہ وہ اپنے نفس پر قابو نہیں پا سکتا ممکن ہے کہ کسی ایسی بات میں مبتلا ہو جائے جو شرعاً ناجائز ہے۔اور اس فتوے میں شیعہ اور سنی دونوں متفق ہیں۔مؤطامیں عبداللہ بن عباس کا فتویٰ درج ہے کہ ارخص فيها لليخ و كير مها للات۔۸۸؎ انہوں نے روزہ میں بوڑھے کے لئے بوسہ لینا جائز قرار دیا اور جو ان کے لئے منع کیا۔عبداللہ بن عمر کا فتویٰ صرف ایک ہے کہ بوسہ لینا دونوں کے لئے منع ہے مگر چونکہ وہ بلا قید ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ان کا فتویٰ عام تھایا جوانوں کے متعلق۔امام ابو حنیفہ کا فتوی ٰجو ہدایہ میں لکھا ہے یہ ہے ولا باس با قبلة اذا امن على نفسہ و يكره ازا لم یامن۔یعنی جب اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو تو جائز ہے اور اگر اپنے نفس پر قابو نہ رکھتا ہو اور خطرہ ہو کہ حدیث شریعت کو توڑ ڈالے گاتو مکروہ ہے۔شافعیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ تكره القبلة للصائم الذي لا یملک اربه د ۹۰؎ یعنی اس کے لئے بوسہ لینامکروہ ہے جو اپنی شہوت پر قابو نہیں رکھتا بلکہ امام شافعی کا قول تو یہ ہے کہ بوسہ لینا ہر حالت میں جائز ہے اگر اس سے بڑھ کر کوئی شخص کوئی عمل خلاف شریعت کر بیٹھتا ہے تو اس کی سزا وہ الگ پائے گا۔یہ تو اہل سنت کے فتوے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ بوسہ لینا روزہ میں مکروہ نہیں بلکہ اس کے لئے مکروہ ہے جو جوان ہو اور اپنی شہوت پر قابو نہ رکھتا ہو۔اب میں ایل شیعہ کافتویٰ درج کر کرتا ہوں۔فروع کافی جلد اول میں زردارہ کی ایک روایت امام ابو عبداللہ سے درج ہے کہ لا تنقض