انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 363

۳۶۳ القبلة الصوم ۹۱؎ یعنی روزہ بوسے سے نہیں ٹوٹتا۔اسی طرح منصور بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے پوچھا ما تقول في الصائم يقبل الجارية أو المرأة فقال أما الشیخ الكبير مثلي ومثلك فلا بأس وأما الشاب الشیق فلا لأنه لا يؤمن والقبلة إحدى الشھوتين - ۹۲؎ ترجمہ۔آپ اس روزہ دار کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو لڑکی یا عورت کا بوسہ لے لے؟ آپ نے فرمایا بوڑھا جیسے تُویا میں ہوں اگر بوسہ لے تو کچھ حرج نہیں اور اگر جوان ہو جو شہوت پر قابو نہ پا سکتا ہو تو اسے بوسہ لینا نہیں چاہئے۔کیونکہ وہ محفوظ نہیں اور بوسہ بھی ایک شہوت ہے۔یعنی اس سے چونکہ شہوت پیدا ہوتی ہے اور وہ شخص شہوت پر قابو نہیں رکھتا اس لئے ڈر ہے کہ اس قدم کے اٹھانے سے دوسرا بھی اٹھالے۔مذکورہ بالا فتووں سے جو سنّیوں اور شیعوں کے ہیں ثابت ہے کہ روزہ دار کو بوسہ لینا یوں تو جائز ہے مگر ایسی حالت میں منع ہے جب اس سے شر میں پڑ جانے کا خطرہ ہو اور بوڑھاچو نکہ بظاہر اس شر میں پڑنے سے محفوظ ہوتا ہے اسی کے لئے انہوں نے جا ئز رکھا ہے کہ بوسہ لے لے۔ان فتووں کی موجودگی میں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی موجودگی میں مصنّف ہفوات کایہ لکھنا کہ یہ ایک مکروہ فعل ہے اور رسول مکروہ فعل نہیں کہ سکتا۔کیا یہی دلالت نہیں کرتا کہ مصنّف ہفوات اپنے فتویٰ پر خدا کے رسول کو بھی چلانا چاہتے ہیں اور خود شریعت بنانے کا دعوے رکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں جب تشریف لے گئے ہیں اس وقت آپ کی عمر پچاس سے متجاوز ہو گئی تھی۔پس اگر فتویٰ یہی سمجھا جائے کہ بوڑھے کو بوسہ لینا جائز ہے جو ان کو نہیں تو بھی آپ کی طرف اس قسم کا عمل منسوب کرنافتویٰ کے خلاف نہیں۔اور مصنّف ہفوات کے مقرر کردہ معیار کے مطابق بھی محل اعتراض نہیں۔اور اگر اس امر کو دیکھا جائے کہ یہ عمل اس شخص کی نسبت بیان کیا گیا ہے جو خدا کے سامنے مقام شہود پر کھڑا تھا اور مقام شہود میں سے بھی سدرة المنتہٰی پر باریاب ہو چکا تھا تو پھر تو یہ اعتراض اور بھی لغو ہو جاتا ہے۔آپ تو عین عُنفوان شباب میں بھی اس فتویٰ کے ماتحت نہیں تھے کیونکہ آپ سے زیادہ کون شخص اپنی شہوات پر قابو رکھنے والا تھا خواہ جوان ہو خواہ پیر ِفرتوت۔مصنف ہفوات کے اعتراض کے تو یہ معنے ہیں کہ گویا نعوذ بالله من ذک سب سے زیادہ رسول کریم شهوات میں پڑ جانے کے محّل تھے۔اس لئے آپ کو تو اس فعل کے قریب ہی نہیں جانا چاہئے تھا حالانکہ اس نہی کا باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ