انوارالعلوم (جلد 9) — Page 361
۳۶۱ اٹھا کہ خود صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نماز ٹوٹ گیا۔کیونکہ کنز (کنزالعمال) میں لکھا ہے کہ حرکت کرنے سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ میرے نزدیک اس حدیث کو درست سمجھ کر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ مص لسانها علیحدہ جملہ ہو یعنی راوی نے حضرت عائشہ سے یہ دو باتیں سنی ہوں کہ آنحضرت روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور یہ کہ آپ اپنی ازواج کی زبان بھی پیار میں چوس لیا کرتے تھے اور اس نے ان کو ایک ہی جملہ میں بیان کر دیا۔حالانکہ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ آپ بحالت صوم ایسا کیا کرتے تھے۔پس اس تاویل سے اس حدیث کا مطلب بالکل صاف ہو جاتا ہے اور اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت روزہ میں بوسہ لینا اور پیارسے زبان کا چوسنا ثابت ہوتا ہے افطار میں نہ کہ روزہ میں۔اگر کہا جائے کہ اگر روزہ کی حالت میں ایسا نہیں کیا گیا تو پھر اس کے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اسوہ تھے تمام مسلمانوں کے لئے اس لئے آپ کی ہر ایک حرکت کو مسلمان غور سے دیکھتے اور جو نہ معلوم ہوتی اس کے متعلق دریافت کرتے اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق بنائیں۔اس وجہ سے آپ کی تمام باتیں احادیث میں بیان کی جاتی ہیں حتی کہ یہاں تک بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ پیارسے کبھی اس جگہ گلاس پر منہ رکھ کے پانی پیتے جہاں رکھ کر آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے پانی پیا ہوتا۔اور غرض ان احادیث کے بیان کرنے کی یہ ہے کہ تالوگ عورتوں سے حسن معاشرت کریں اور ان کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھیں اور ان کے حقوق کو غصب اور ان کی خواہشات کو باطل نہ کریں۔دوسرا اعتراض مصنّف قوات کا یہ ہے کہ ان احادیث میں ہے بات لکھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور یہ بات مصنّف ہفوات کے نزدیک مکروہ ہے اور مکروہ فعل رسول نہیں کر سکتا۔ٍ مجھے تعجب پر تعجب ان مسلمان کہلانے والوں پر آتا ہے جو اپنے پاس سے شریعت بھی بنانے لگتے ہیں۔یہ کب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دونو میں بوسہ لینا مکروہ ہے؟ یا آپ کی کس بات سے یہ امر مستنبط ہوتا ہے؟ خود ہی ایک مسئلہ گھڑا اور خودی اسے رسول پر حاکم بنادیا جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں مسائل اخلاقیہ ہی صرف ایسے مسائل ہیں کہ جن میں استنباط اور قیاس