انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 360

۳۶۰ حق الیقین نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات اس حدیث کے مخالف رائے رکھتا ہے اور اس حدیث کو متروک یا منسوخ یا ضعيف يا نا قابل احتجا ج سمجھتا ہے پس ابو داؤد میں اس روایت کے درج ہونے کے یہ معنی نہیں کہ ابو داؤد اس کو صحیح سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اس روایت کو درج کیا تھا۔دوسرا جواب مصنّف ہفوات کے اعتراض کا یہ ہے کہ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ ابو داؤد نے اس حدیث کو صحیح سمجھ کر لکھا ہے تب بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ یہ مسئلہ اخلاق نہیں ہے بلکہ شرعی ہے۔شرعی مسائل روایت سے ثابت ہوتے ہیں نہ کہ درایت ہے۔اگر کسی شخص کو کسی شرعی حکم کے متعلق جو اخلاقی سے تعلق نہ رکھتا ہو کوئی روایت پہنچے اور وہ اسے درج کر دے تو اس سے یہ کیوں کر سمجھا جائے گا کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جسے اہل سنت شیعوں پر اس لئے اعتراض کریں کہ ان کے نزدیک پاؤں پر مسح کیا جاتا ہے اور ان روایات کی بناء پر جو ان کے نزدیک ثابت ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ننگے پاؤں کے نہ دھونے سے وضوہی باطل ہو جاتا ہے اور نمازہی نہیں ہوتی یہ کہہ دیں کہ دیکھو شیعہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نہ وضو کرتے تھے اور نہ نماز پڑھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک آپ وضو میں پاؤں نہ دھوتے تھے۔کیا یہ اعتراض سینوں کا درست ہو گا؟ اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراض اخلاقی مسائل اور عقلی مسائل کے متعلق ہوا کرتے ہیں نہ کہ شرعی کے متعلق۔فرض کرو کہ روزہ میں بعض کی غذاؤں کا کھانا جائز ہوتا تو کیا دشمنان اسلام اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق رکھتے تھے کہ یہ ایک خلاف اخلاق بات ہے۔یا مثلاً ظہرکی رکعتیں بجائے کار کے تعین ہوتی تو کیا اس پر کوئی یہ اعتراض کر سکتا تھا کہ یہ بد اخلاقی ہو گئی۔پس اسی طرح اگر کسی شخص کے نزدیک یہ ثابت ہو کہ زبان چوسنی جائز ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کر لیا کرتے تھے تو اس پر یہ تو اعتراض کیا جاسکتاہے کہ یہ روایت ثابت نہیں یا یہ کہ دوسری احادیث کے خلاف ہے یا یہ کہ اس نے ایک غلط روایت کو بیان کر دیا ہے۔لیکن اس پر یہ اعتراض ہر گز نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت یا آپ کے اخلاق پر کوئی اعتراض کیا ہے ایسے موقع پر یہ اعتراض کرناایسا ہی ہے جیسا کہ ایک انسان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے اس قسم کی حدیثیں جب پڑھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے موقع پر کوئی بچہ اٹھالیا یا اس کو اتار دیا اور اس کا کوئی کام کیا تو بے اختیار بول