انوارالعلوم (جلد 9) — Page 359
۳۵۹ حق الیقین مطلب سے اختلاف ہوتا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ وہ ایک ہی جگہ متضادمضامین کی روایات لے آتے ہیں اور یہ بات صرف اہل سنت والجماعت کی ہی کتب حدیث میں نہیں ہے بلکہ اہل شیعہ کی کتب حدیث میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے چنانچہ آپ لوگوں کی سب سے معتبر کتاب فروع کافی ہے باب الرجل يجامع أهله في السفر میں امام عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے عمر بن یزید اور سہل عن ابیہ اور ابوالعباس سے ایسی روایات درج ہیں۔جن کا مطلب یہ ہے کہ رمضان میں جو شخص سفر پر ہوا سے جماع جائز ہے۔عمربن یزید کی روایت کے الفاظ یہ ہیں یعنی کیا اسے جائز ہے کہ اپنی بیوی سے صحبت کرے فرمایا ہاں۔مگر اسی جگہ ساتھ ہی ابن سنان نے انہی امام ابو عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے روایت درج کی ہے کہ ایسا کرنا بالکل درست نہیں اور راوی کے اعتراض کرنے پر کہ جب اس کو کھانا پینا جائز ہے تو جماع کیوں جائز نہیں؟ ان کی طرف سے یہ دلیل بیان کی گئی ہے۔ان الله رخص لمسافر في الإفطار والتقصير رحمة و تخفيفا الموضع التعب والنصب ووعث السفر ولم يرخض له في مجامعة النساء في السفر بالنهار في شهر رمضان ۸۶؎ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو إفطار اور قصر نماز کی اجازت تھکان اور تکلیف اور سفر کی کوفت کی وجہ سے دی ہے لیکن اسے دن کے وقت سفر میں رمضان کے مہینہ میں عورتوں سے جماع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ان دونوں حدیثوں میں کس قدر اختلاف ہے ایک میں جماع کو جائز قرار دیا ہے دوسری میں بالکل ردّ کیا ہے۔اور دونوں روایتیں ایک کتاب حدیث میں درج ہیں اور ایک ہی راوی سے درج ہیں اور بالکل پاس پاس درج ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بُھول چُوک سے ایسا نہیں ہوا بلکہ مصنّف نے جان بوجھ کر ان کو ایک جگہ جمع کیا ہے تا روایات کا اختلاف پڑھنے والے کے سامنے آجائے۔اب یہ ظاہر بات ہے کہ مصنّف دونوں باتوں کا ایک ہی وقت میں تو قائل نہیں ہو سکتا ضرور ہے کہ وہ دونوں باتوں میں سے ایک کو ترجیح دیتا ہو گا مگر باوجود اس کے وہ درج دوسری روایت کو بھی کر دیتا ہے۔اسی طرح روزہ میں خوشبو سونگھنے کے متعلق مختلف روایتیں فروع کافی میں درج ہیں خالد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ امام ابو عبد اللہؒ روزہ میں خوشبو لگائے اور اسے تحفہ خداوندی قرار دیتے۔حسن بن راشد امام ابو عبداللہ ؒسے روایت کرتے ہیں کہ خوشبو کا سونگھنا روزہ میں منع ہے۔۸۷؎ غرض ہر ایک روایت جو مؤلف حدیث اپنی کتاب میں درج کرتا ہے اس کی صحت کاوہ قائل