انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 244

انوار العلوم جلد9 ۲۴۴ (۳) تیسرا ذریعہ انانیت کے بڑھانے کا جذب کی طاقت کو مضبوط کرنا ہے۔ایسا انسان سوچے کہ جن چیزوں کی مجھے ضرورت ہے وہ مَیں ضرور لونگا جن جن چیزوں کا حاصل ہونا مشکل نظر آئے ان کے متعلق یہ احساس دل میں بار بار قائم کرے اس سے انانیت غالب آجائیگی۔(۴) قوتِ مقابلہ کی طاقت کو مضبوط کرے۔یعنی یہ خیال کرے کہ جو چیزیں مضر ہونگی انکا مَیں مقابلہ کرونگا۔(۵) استقلال کی طاقت کو مضبوط کرے۔اس سے بھی مَیں پیدا ہوتی ہے۔استقلال کبھی کبھی مشکل ہوتا ہے اور بعض کے لئے ناممکن ہوتا ہے مگر بعض لوگ اس کے متعلق بے توجہی کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں خیر اس بات کو جانے دو۔یہ عادت نہ رہنی چاہئے۔کیونکہ اگر انسان بعض باتوں میں استقلال دکھائے تو دوسری باتوں میں استقلال کی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس طرح مَیں کی طاقت مضبوط ہو جاتی ہے۔(۶) مصلحت- یہ بھی بقاء کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔مصلحت وقت کو غور کرکے کام کرے۔اِس سے تدبیر حکمت۔راز رکھنے اور نفس پر قابو رکھنے کی قابلیت پیدا ہوگی اور انانیت ترقی کریگی۔(۷) احتیاط ہوشیاری۔چوکس رہنا دور اندیشی۔ان باتوں کو ذہنی طور پر پیدا کرنیکی کوشش کرے۔ان سے بھی انانیت ترقی کریگی۔(۸) اپنی مدح سے نفرت کرے۔اگر کوئی کرے تو اُسے روک دے۔اس سے بھی انانیت مضبوط ہوتی ہے۔مدح انانیت کو مار دیتی ہے اور نہایت تیز چھری ہے جو اُسے ذبح کر دیتی ہے۔دیکھو قرآن کریم میں کیا لطیف طور پر بیان کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلَوْا (۳:۱۸۹) کچھ ایسے لوگ ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ان کے متعلق ان کی تعریف کی جائے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ وہ بات مانتے ہیں جو لوگ ان کے متعلق کہیں اور خود اپنے نفس پر غور نہیں کرتے کہ انہوں نے کوئی کام کیا بھی ہے کہ نہیں یعنی ایسے لوگ خود کام نہیں کرتے۔جو تھوڑا بہت کام ہو جائے اُسی پر خوش ہو جاتے ہیں۔اور جو دوسرے بتائیں کہ تم نے یہ کام کیا ہے اسے مان لیتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا ہے۔گویا دوسروں کی مدح ان کے لئے جو خیالی محل بنا دیتی ہے اس میں ایسے لوگ رہتے ہیں۔پس مدح سے نفرت کرنے سے انانیت مضبوط ہوتی ہے۔