انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 243

انوار العلوم جلد9 ۲۴۳ کام کرانے میں سست ہو جاتا ہے۔(۲) یا پھر یہ کہ مَیں تو مضبوط ہے مگر داروغہ بیمار ہو گیا یعنی قوتِ ارادی کمزور ہو گئی اور اس کا جذبات پر قابو نہیں رہا۔جذبات داروغہ یعنی قوتِ ارادی کے ماتحت بطور ملازم ہوتے ہیں۔جب داروغہ بیمار ہو گیا تو ملازم سُست ہو گئے۔اسکا حکم نہیں مانتے گویا اس طرح مَیں اور احساسات میں جو واسطہ تھا وہ کمزور ہو گیا۔(۳) اگر یہ بھی نہیں تو یہ نقص پیدا ہو گیا ہے کہ کوئی ایسی چیز ارادہ اور احساسات کے درمیان آگئی ہے کہ باوجود اس کے کہ ارادہ حکم دینے کی طاقت تو رکھتا ہے اور احساسات ماننے کے لئے بھی تیار ہیں مگر ان میں اتنا فاصلہ ہو گیا ہے۔یا روک پیدا ہو گئی ہے کہ احساسات تک حکم نہیں پہنچتا۔پس عملی گناہ یا نیکی میں کمی کے یہ تین سبب ہوتے ہیں یعنی (۱) انانیت کی کمزوری (۲) ارادہ کی کمزوری (۳) بعض اور چیزوں کی دخل اندازی احساسات کو ارادہ کے قبضہ سے نکال لیتی ہے جیسے مثلاً عادت ہے۔ایک شخص کو حقہ پینے کی عادت ہے، وہ ارادہ رکھتا ہے کہ حقہ نہیں پینا۔مگر جب سامنے حقہ دیکھتا ہے تو کچھ نہیں کر سکتا اور عادت سے مجبور ہو کر پی لیتا ہے۔اب مَیں وہ امور بتاتا ہوں جن سے انانیت بڑھتی ہے اور انسان کی قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے۔(۱) پہلی چیز جو مَیں کو مضبوط کرتی ہے وہ قوتِ بقا یعنی قائم رہنے کی خواہش ہے۔ہر چیز میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ مجھے باقی رہنا چاہئے۔ایک معمولی سے کیڑے کو مارو۔تو وہ تلملاتا ہے۔یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔وہ انسان جسمیں مذکورہ بیماریاں پیدا ہو جائیں اسے خیال کرنا چاہئے کہ اگر میری یہی حالت رہی تو مَیں مرا مگر تجھے تو زندہ رہنا ہے اس لئے قوت بقا کو مضبوط کرے۔یہ ایک طبعی تقاضا ہے اور فکر سے جلدی بڑھ سکتا ہے۔چنانچہ یہی دیکھ لو ایک حقہ پینے والا حقہ دیکھ کر اس کے پاس جا بیٹھیگا۔شراب پینے والا شراب دیکھ کر اُسکی طرف دوڑیگا۔لیکن اگر کوئی تلوار لیکر اُسے وہاں مارنے کے لئے آئے تو پھر دیکھو کس طرح بھاگتا ہے۔کہتے ہیں شرابی کو اگر جوتیاں ماری جائیں تو اس کا نشہ دور ہو جاتا ہے۔یہ بقا کی خواہش کا ہی غلبہ ہوتا ہے جس کے باعث نشہ دور ہو جاتا ہے۔(۲) فنا کی خواہش کو مضبوط کر لے۔یہ تقاضا پہلے تقاضا کا لازمی نتیجہ ہے۔ابقاء کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی جب تک افناء کی خواہش کو مضبوط نہ کرے۔اُسے چاہئے کہ افناء کی خواہش کو بھی مضبوط کرے یعنی سوچے کہ جو چیز میرے مقاصد میں حائل ہوگی مَیں اس کو پیس ڈالوں گا۔