انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 245

۲۴۵ (۹) نواں علاج عزتِ نفس کی طاقت کا پیدا کرنا ہے۔یعنی انسان ہر قسم کی ذلّت اور شرمندگی کی برداشت سے انکار کرے۔کہے میری طرف بدی کیوں منسوب ہو۔اس طرح نفس کو غیرت آتی ہے اور وہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔اور پھر ارادہ سے کام کرا لیتا ہے۔(۱۰) دسواں علاج وقار ہے یعنی جو باتیں تم سے متعلق نہ ہوں۔ان میں خواہ مخواہ دخل نہ دو ہر کام میں دخل دینا چھچھورا پن ہوتا ہے اور اس سے انانیت مُردہ ہو جاتی ہے۔(۱۱) گیارھواں علاج امید ہے۔اس طاقت کو اپنے اندر بڑھائو۔اس سے بھی اعزازِ نفس حاصل ہوتا ہے۔انسان یقین رکھے کہ ایسا ہو جائیگا۔اس طرح اپنے نفس پر اعتبار کرنے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔(۱۲) بارھواں علاج خوش مزاجی ہے۔اس سے انسان میںطاقت پیدا ہوتی ہے۔اور کُڑھنے سے طاقت ضائع ہو جاتی ہے۔اِن میں سے بہت سی باتیں ایسی ہیں جو مشکل ہیں لیکن اگر کوئی ان میں سے چند پر بھی عمل کریگا تو اس میں طاقت پیدا ہونی شروع ہو جائیگی۔یہ سب امور ذہنی ہیں اور ان کی مشق سے انسان کی ذہنی قوتیں نشوو نما پا سکتی ہیں یہاں تک کہ ارادہ ہی ماتحت آجائے۔ان کے استعمال کا بہتر طریق یہ ہے کہ انسان انسان کی اس حیثیت پر غور کرے جو مَیں نے بتائی ہے اور اس سے چند ہی دن میں علیٰ قدرِ مراتب وہ اپنے اندر انانیت کا جذبہ بڑھتا ہوا پائیگا۔مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انانیت ہی حد سے بڑھ جاتی ہے اور اس سے گناہ پیدا ہونے لگتے ہیں۔جیسے ایک ظالم آقا ہو جو خواہ مخواہ نوکروں کو مارتا رہتا ہو۔ایسی حالت میں اسکا علاج خدا تعالیٰ کی بے نیازی پر غور کرنا ہے۔انسان سوچے کہ اگر میری مَیں اس طرح ہر نقص پر گرفت کر رہی ہے تو اگر خدا تعالیٰ مجھ سے یہی سلوک کرے تو میری کیا حالت ہو اور یہ سوچے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے وہ خدا تعالیٰ کا عطیہ ہے۔مَیں اس کا مالک نہیں ہوں۔مَیںتو صرف امین ہوں اور امانت کے متعلق سوال کیا جائیگا۔اس لئے مجھے بے جا سختی نہیں کرنی چاہئے۔جب انانیت پیدا ہو جائے یا وہ پہلے ہی موجود ہو مگر مشکل ارادے کے متعلق ہو یا درمیانی روکوں کے متعلق ہو تو اس صورت میں اس کا مندرجہ ذیل علاج ہے: (۱) اوّل تو وہی ظاہر و باطن کی مشابہت پیدا کرنا ہے جو پہلے بیان کر آیا ہوں کہ ظاہری طور پر انسان تصنع سے ہی کام کرے اس کا اثر باطن پر پڑیگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر