انوارالعلوم (جلد 9) — Page 112
۱۱۲ بہت کم ہے۔مثلا ً جیسے انجینئرنگ ہے زنانہ طب ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح تجارت اور صنعت و حرفت کے متعلق غور کیا جائے کہ ان کے کون کون سے ضروری شعبے ہیں جو مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہیں یا ان میں ان کا دخل اس قدر کم ہے کہ وہ آزاد قومی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔یہ سب کمیٹی غور کے بعد جن جن امور کی طرف فوری توجہ مناسب سمجھے ان کی طرف مختلف ذمہ دار محکموں کو توجہ دلائے جن کا فرض ہو کہ جلد سے جلد ان کمیوں کو پورا کریں۔اگر ایسی کمیٹی بنائی گئی اور اس نے محنت سے کام کر کے مختلف شعبہ ہائے عمل میں مسلمانوں کا حصہ معلوم کیا تو مسلمانوں کی آنکھیں کھل جاویں گی کہ بہ حیثیت ایک قوم کے وہ ہرگز آزاد نہیں ہیں بلکہ ان کی ہمسایہ قومیں ان کو تمدنی امور میں اس طرح دبائے ہوئے ہیں کہ یہ ایک دن بھی آزاد زندگی بسر نہیں کر سکتے۔مسلم بنک کا سوال تیسرا سوال مسلم بنک کا ہے میں چونکہ سود کے لیئے دینے کو ہر حالت میں ناجائز سمجھتا ہوں۔اس مسئلہ پر کچھ لکھنا مفید نہیں سمجھتاہوں اگر بِلا سود کے بنک کی صورت نکل سکے جو میرے نزدیک نکل سکتی ہے تو ہماری جماعت تفصیل معلوم ہونے اور مطمئن ہونے پر ایسے بنک میں شامل ہو سکتی ہے۔قيام بیت المال یہ بھی ایک ضروری شے ہے مگر اس امر کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ روپیہ نااہل لوگوں کے ہاتھ میں نہ رہے۔اس کا باقاعدہ حساب ہوتا رہے اور ایسے لوگوں کے ذریعہ سے حساب چیک کروائے جاویں جو آزاد ہوں۔اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس نظام کو رجسٹرڈ کروا لیا جائے تا کہ کارکنوں کو عدالتی کارروائی کا بھی خوف رہے۔بیشک جذباتی طور پر یہ امر ناپسندیدہ معلوم ہو لیکن فطرت انسانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قسم کی احتیاطوں کی اشدّ ضرورت ہے۔اور جب تک یہ احتیاطیں نہ کی جاویں گی اور دیانت کا اعلیٰ نمونہ نہ دکھایا جائے گا کبھی کام میں برکت نہ ہوگی اور لوگوں کی طبائع میں حقیقی جوش نہ پیدا ہو گا۔بیت المال کے قیام میں اس امر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہو گا کہ جن جماعتوں کے قومی بیت المال موجود ہیں ان کے نظام سے نیا نظام ٹکرائے نہیں کیونکہ کوئی قوم اپنے چلتے ہوئے کام کو اس نئے تجربہ کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہو گی اور نہ ہی وہ اپنے مخصوص نظام کو کسی وقت بھی نظام عام کے لئے چھوڑنے پر آمادہ ہوگی۔اصلاح رسوم و رفع تنازعات پانچواں امر اصلاح رسوم و بدعات و رفع تنازعات کے متعلق ہے۔یہ ایک نہایت ہی نازک سوال ہے اور