انوارالعلوم (جلد 9) — Page 111
۱۱۱ خیالات کا غلبہ ہے۔وہ دوسری اقوام کے مقابلہ میں اسی وجہ سے ذلیل رہتے ہیں اور ملک کے لئے بھی مفید نہیں ہو سکتے۔میرا یہ خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں عدم تعاون سے نہیں۔گورنمنٹ برطانیہ کی طاقت انگریز افسروں کے ذریعہ سے اسقدر نہیں ہے جس قدر کہ خود غرض نفس پرست ہندوستانی افسروں کے ذریعہ سے۔اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں کہ جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں وہ اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورہ سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطہ نگاہ کی طرف مائل ہو۔بے شک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہوگی مگر جبکہ یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مد نظر رکھ کر ہوئے ہوں گے تو ان کے دل اس بات سے ڈریں گے نہیں۔دوسرے کوئی گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازموں کو اس جُرم میں الگ نہیں کر سکے گی کہ تم کیوں سچائی سے اصل واقعات کو پیش کرتے ہو۔اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومتِ ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔ایک صیغہ تجارت کا ہو جو مسلمانوں کی تجارتی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ایک صنعت و حرفت کا، ایک تحفّظ حقوق ملازمت کا ،ایک حفظان صحت کا ،ایک امور خارجیہ کا جو غیر اقوام سے تعلقات کا نگران رہے، ایک عدالت کا جو پنچایت سسٹم کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے، ایک احتساب کا جو اس امر کا مطالعہ کرتا رہا کرے کہ مسلمانوں میں اخلاقی و تمدنی خرابیاں تو کوئی پیدا نہیں ہو رہیں۔اسی طرح ایک صیغہ بیت المال کا اور ایک محاسبہ کا۔اور یہ سب صیغے ایک دوسرے سے آزاد ہوں تا آزاد طور پر ایک دوسرے کے کام کی نگرانی کر سکیں۔ان صیغوں کے متعلق ہر بستی اور ہر گاؤں میں ایک انتظامی جال پھیلا ہوا ہو تاکہ صرف سالانہ تقریروں تک یہ کام محدود نہ رہے بلکہ حقیقی کام بھی دکھا سکے۔تحقیقاتی کمیٹی کی ضرورت اس انتظام کے ماتحت یہ ضروری ہو گا کہ فورا ً ایک تحقیقاتی کمیٹی بٹھائی جائے جو اس امر پر غور کرے کہ مسلمانوں کو دوسری اقوام کے اثر سے آزاد ہونے کے لئے کون کون سی چیزوں کی ضرورت ہے۔مثلاً یہ کہ کون کون سے صیغوں میں مسلمانوں کا حصہ ملازمت اس قدر کم ہے کہ وہ اپنے حقوق کی آزادانہ حفاظت نہیں کر سکتے۔یا مثلاً کون کون سے پیشے ایسے ہیں کہ ان میں مسلمانوں کی تعداد