انوارالعلوم (جلد 9) — Page 113
۱۱۳ اگر کانفرنس کی دیر پا نظام کی صورت دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اس امر میں سوچ سمجھ کر دخل دینا چاہئے۔بہت سی رسوم اس قسم کی ہیں کہ ان کو مختلف فرقے اپنے مذہب کا جزو سمجھ رہے ہیں اور ان میں دخل دینا ان کے نزدیک مذہبی دست اندازی ہو گا۔میں اس غرض کے حصول کے لئے کوئی عام قاعده بناناشقاق و فساد کی بنیاد رکھنا ہو گا۔اگر کانفرنس اپنے کام میں کامیاب ہونا چاہتی ہے تو اس کو چاہئے کہ اصلاح رسوم کا کام ہر فرقہ کے علماء اور عمائدین کے ہاتھ میں رہنے دے اور اسی وقت اور اسی حد تک دخل دے کہ کسی جماعت کے علماء اور عمائدین اس کے ساتھ متفق ہوں۔اس کا ایک آسان طریق میں بتاتا ہوں جو یہ ہے کہ مرکزی نظام کی طرف سے ایک کمیٹی تحقیقاتی بٹھائی جائے جو ہر ضلع میں اپنے ماتحت سب کمیٹیاں مقرر کرے جو اپنے اپنے علاقے کی قابل اصلاح رسوم کی فہرست بنا کر اور ساتھ یہ لکھ کر کہ یہ فلاں فلاں فرقہ یا جماعت میں پائی جاتی ہیں مرکزی کمیٹی کو اطلاع دے۔مرکزی جماعت تمام رسوم کی ایک فرقہ دار لسٹ بناوے۔یعنی اس طرح کہ فلاں فرقہ اور جماعت میں فلاں فلاں رسم پائی جاتی ہے جس کی اصلاح تمدنی یا اخلاقی لحاظ سے ضروری ہے اور پھر وہ لسٹ ہر فرقہ کے علماء کی کمیٹی کو دے کہ وہ اس پر اپنی رائے لکھیں گے اس لسٹ میں کونسے امور کو وہ مذہبی اعمال سمجھتے ہیں اور ان میں کسی قسم کا دخل دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور کونسے أمور کو وہ مضر اور قابل اصلاح رسوم سمجھتے ہیں۔جن امور کو وہ رسوم قرار دیں ان کے متعلق ان کی اور عمائدین فرقہ کی مدد سے اصلاح کی کوشش کی جائے۔اور جن امور کو مذہب کا حصہ یا ضروری قرار دیں ان کو اس قوم کی اصلاح کے وقتی پروگرام سے نکال دیا جائے۔گو مرکزی جماعت کا یہ حق ہوگا کہ وہ تبادلہ خیالات کے ذریعہ سے کسی فرقہ کے علماء کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرے اور ان پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ وہ امور رسوم ہیں، مذہب کا حصہ نہیں ہیں۔مگر یہ افہام و تفہیم ایسے رنگ میں ہونی چاہئے کہ بحث اور مباحثے کا رنگ اختیار نہ کرے۔ہر فرقہ کے علماء کی کمیٹی اس اصلاحی کام کو کامیاب بنانے کے لئے اور دوسرے نظام کو مکمل کرنے کے لئے یہ ضروری ہو گا کہ ہر فرقہ کےلوگوں سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اپنے علماء کی ایک کمیٹی تجویز کریں جس سے تمام ایسے أمور میں اس فرقہ کے متعلق مرکزی نظام مشورہ لے سکے جن کا اثر مذہب پر پڑتا ہے اور جن کی مددسے وہ اس فرقہ کے نقطۂ خیال کو سمجھنے میں کامیاب ہو سکے۔ایسی کمیٹیاں اگر ان سے صحیح طور پر کام لیا جائے نہایت ہی مفید ہوں گی۔