انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 588

۵۸۸ سے تھک جاؤں جو میری خوشی کا سرچشمہ ہے؟ عورت:-یہ طاقت آپ کو کہاں سے ملتی ہے؟ حضرت صاحب :۔اس سے جو ساری طاقتوں کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ میراخد اہے۔عورت: کیا یہ صرف آپ کا خیال ہی ہے؟ حضرت صاحب :۔خیال کیا ہوتا ہے یقین اور امر واقعہ ہے۔میں تم سے باتیں کر تاہوں اس کو کیا خیال کہہ سکتا ہوں۔پھر جب میں نے خدا کا کلام خودسنا ہے اور اس سے باتیں کی ہیں تو میں اس کا نام خیال کیسے رکھ سکتا ہوں۔کام کرنے کا یہ طریق ہمارے امام نے بتایا ہے اور اس نے کر کے دکھایا ہے۔خدا تعالی نے اس کو ایسے وقت میں جب وہ اکیلا تھا فرمایا کہ لوگ تیرے پاس کثرت سے آئیں گے ان سے تھکنا نہیں پس میں نے اس کو دیکھا کہ ہزاروں آدمی آتے اور وہ کبھی نہ گھبراتا اور نہ تھکتا۔پھر خدا نے جب وہ جماعت میرے سپرد کی کیا میں اس سے گھبرا سکتا ہوں ہم کو ہمارے امام نے اپنے عمل سے کام کرنا ہی نہیں سکھایا بلکہ یہ بھی بتایا کہ ہم دوسروں کے لئے جیئیں۔عورت:- آپ کتنی مرتبہ نماز پڑھتے ہیں؟ حضرت صاحب :- پانچ وقت۔لیکن اگر کوئی دینی کام ہو اور اس کی وجہ سے مصروفیت ہو یا اور ایسے مجبوری کے اسباب ہوں تو دو نماز یں ملا کر بھی پڑھ سکتے ہیں۔عورت - کیا آپ مذہب میں متعّصب ہیں۔(اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ جو آپ کے مذہب کو نہیں مانتے۔ان سے نفرت کرتے ہیں یا ان پر سختی کرتے ہیں) حضرت صاحب :- میں متعّصب کیونکر ہو سکتا ہوں اور کسی مخالف سے نفرت کیسے کر سکتا ہوں۔میں تو چاہتا ہوں کہ سب کے سب حق کو قبول کریں اگر میں نفرت کروں تو میری بات کیو نکر سنیں گے۔میں ان لوگوں سے جنہوں نے مان لیا پیار کرتا ہوں کہ وہ میرے عزیز ہیں اور میں ان لوگوں سے جنہوں نے نہیں مانا پیار کرتا ہوں کہ وہ بیمار ہیں اور میری ہمدردی کے زیادہ مستحق ہیں میرے لئے نفرت کا کوئی موقع ہی نہیں۔میری جماعت کے لوگ دکھ اٹھاتے ہیں دکھ دیتے نہیں۔ابھی افغانستان میں ایک واعظ کو وہاں کی حکومت نے سنگسار کرا دیا۔اس سے پہلے بھی دو شہید ہوئے اور جگہ بھی لوگ تکلیف دینے ہیں ہم صبر کرتے ہیں اور ان سے ہمد ردی کرتے ہیں کہ وہ نادان ہیں۔