انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 589

۵۸۹ عورت:۔میں مانتی ہوں کہ ایک خدا ہے بس یہ کافی ہے کچھ اور جاننے کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت صاحب: جب ایک خدا مانتی ہو تو اس کے حکم کے موافق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی حکم نہیں مانتی ہو تو پھر خدا کے ماننے کادعوی ٰصحیح نہیں ہے۔کیا ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کا اقرار کر کے یہ کہہ دو کہ اس کے قانون کی کیا ضرورت ہے؟ عورت:۔مجھے اس تکلیف میں پڑنے کی ضرورت نہیں؟ حضرت صاحب :- نہیں اس کی ضرورت ہے۔کیا صرف پانی کا علم رکھ کر پیاس بجھ جائے گی ضروری ہے کہ پانی پی کر پیاس بجھاؤ - خدا تعالی کو جب مان لیا ہے تو اس کے احکام کی تعمیل کرو کہ تم اس کی رضاء کی برکات کو حاصل کر سکو۔ایک قدم اور آگے بڑھانا چاہئے جب تم ایک مذہب کو سچامان لو تو پھر اس کی اتباع لازمی ہوتی ہے۔خداتعالی نے مجھے آپ کہا کہ اسلام سچامذ ہب ہے۔عورت - کیا تم ایسا خیال کرتے ہو؟ حضرت صاحب : میں نے ابھی کیا ہے کہ میں نے اس کو دیکھا ہے اس سے باتیں کی ہیں اس نے قبل از وقت مجھے بہت سی باتیں بتائی ہیں اور وہ پوری ہوئی ہیں (پلیگ وغیرہ کے متعلق رویا سنائے اس سلسلہ کلام میں صفائی کا ذکر آیا۔حضرت نے فرمایا) بے شک ہمارے مکان ایسے صاف نہیں جیسے یہاں کے ہیں۔اس کی وجہ اور اسباب اور ہیں۔وہاں جھکڑچلتے ہیں، آندھیاں آتی ہیں وہ صفائی رہ نہیں سکتی لیکن ہمارے جسم تم سے زیادہ صاف ہیں اور طہارت اور لطافت اسلام کی خاص تعلیم ہے کیا آپ دیانتداری سے کہہ سکتی ہیں کہ ہم لوگ لندن کے لوگوں سے زیادہ صاف نہیں۔جس قدر ہم نظافت کا خیال رکھتے ہیں آپ لوگ نہیں رکھ سکتے اس لئے کہ ہم کو مذہب نے یہی تعلیم دی ہے۔عبادت کے لئے صاف لباس اور صاف جسم ضروری ہے ہر نماز کے ساتھ وضو ضروری ہے (پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ والدین کا فرض ہے کہ اپنی اولاد کو غلطیوں اور بدیوں سے آگاہ کریں جن میں مبتلاء ہو کر وہ برباد ہو جاتے ہیں اور وہ دوسروں سے ان کو سیکھتے ہیں۔اگر ان کو تعلیم دی جاتی تو وہ محض سبق سمجھتے لیکن جب تعلیم نہ ہو تو پھر دوسروں سے وہ عمل کے طور پر سیکھتے ہیں۔اخلاقی تعلیم بطور سبق کے ہو اور اس میں ان آفات سے بھی بچنے کی تعلیم ہو جو ان کو اخلاقی طور پر تباہ کر دیتی ہیں۔(الفضل ۱۸- نومبر ۱۹۲۴ء)