انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 194

۱۹۴ قادر ہے اور دوسرے یہ کہ جب وہ اس کام کو نہ کرے تو وہ کام نہیں ہو گا۔اس ثبوت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں خدا تعالیٰ کے خالق ہونے کے ثبوت میں اثبات او رنفی کے جو ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کئے ہیں پیش کرتا ہوں۔پہلے میں اس امر کا ثبوت پیش کرتا ہوں کہ آپ نے کون سے ایسے نشانات دکھلائے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا خالق ہے؟ اور میں سب سے پہلے اس کے متعلق ایک صاحب کا اپنا بیان جو کتاب "سیرۃ المہدی" میں شائع ہوا ہے پیش کرتا ہوں۔ان صاحب کا نام عطا محمد ہے اور یہ پٹواری کا کام کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔" جب میں غیر احمدی تھا اور ونجواں ضلع گرداسپور میں پٹواری ہوتا تھا تو قاضی نعمت اللہ صاحب خطیب بٹالوی جن کے ساتھ میرا ملنا جلنا تھا مجھے حضرت صاحب کے متعلق بہت تبلیغ کیا کرتے تھے۔مگر میں پروا نہیں کرتا تھاایک دن انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا میں نے کہا اچھا میں تمہارے مرزا کو خط لکھ کر ایک بات کے متعلق دعا کراتا ہوں اگر وہ کام ہو گیا تو میں سمجھوں گا کہ وہ سچے ہیں۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب کو خط لکھا کہ آپ مسیح موعوداور ولی اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ولیوں کی دعائیں سُنی جاتی ہیں۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ خدا مجھے خوبصورت صاحب اقبال لڑکا جس بیوی سے میں چاہوں عطا کرے۔اور نیچے میں نے لکھ دیا کہ میری تین بیویاں ہیں مگر کئی سا ل ہو گئے آج تک کسی کے اولاد نہیں ہوئی۔میں چاہتا ہوں کہ بڑی بیوی کے بطن سے لڑکا ہو۔[ان کا منشاء یہ تھا کہ چونکہ وہ زیادہ عمر رسیدہ تھی اس لئے اس کے ہاں لڑکا ہونا اور بھی مشکل ہو گا] حضرت صاحب کی طرف سے مجھے مولوی عبد الکریم صاحب مر حوم کا لکھا ہوا خط گیا۔[مولوی صاحب مرحوم جو جماعت احمدیہ کے عمائد میں سے تھا حضرت کے صیغہ ڈاک کے افسر تھے]کہ مولیٰ کے حضور دعا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو فرزند ارجمند صاحب اقبال خوبصوت لڑکا جس بیوی سے آپ چاہتے ہیں عطا کرے گا۔مگر شرط یہ ہے کہ آپ زکریاؑ والی توبہ کریں۔منشی عطا محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ان دنوں سخت بے دین اور شبابی کبابی راشی مرتشی ہوتا تھا۔چنانچہ میں نے جب مسجد میں جا کر ملاّں سے پو چھا کہ زکریا والی توبہ