انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 195

۱۹۵ کیسی تھی؟ تو لوگوں نے تعجب کیا کہ یہ شیطان مسجد میں کس طرح آگیا ہے۔مگر وہ ملاں مجھے جواب نہ دے سکا پھر میں نے دھرم کوٹ کے مولوی فتح دین صاحب مرحوم احمدی سے پوچھا انہوں نے کہا کہ زکریا والی توبہ بس یہی ہے کہ بے دینی چھوڑ دو،۔حلال کھاؤ،نماز روزہ کے پابند ہو جاؤاور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرؤ۔یہ سُن کر میں نے ایسا کرنا شروع کر دیا شراب وغیرہ چھوڑ دی اور رشوت بھی بالکل ترک کر دی اور صلوٰۃ و صوم کا پابند ہو گیا۔چار پانچ ماہ کا عرصہ گذرا ہو گاکہ میں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کو روتے ہوئے پایا۔سبب پوچھا تو اس نے کہا پہلے مجھ پر یہ مصیبت تھی کہ میرے اولاد نہی ہوتی تھی آپ نے میرے پر دو بیویاں کی۔اب یہ مصیبت آئی ہے کہ میرے حیض آنا بند ہو گیا ہے (گویا اولاد کی کوئی امید ہی نہیں رہی )ان دنوں میں اس کا بہائی امرتسر میں تھا نہ دار تھا چنانچہ اس نے کہا کہ مجھے میرے بہائی کے پاس بھیج دو کہ میں کچھ علاج کراؤں میں نے کہا وہاں کیا جاؤ گی یہیں دائی کو بلا کر دکھلاؤاور اس کا علاج کرواؤ۔چنانچہ اس نے دائی کو بلوایااور کہا کہ مجھے کچھ دوا وغیرہ دو۔دائی نے سرسری دیکھ کر کہا میں تو دوا نہیں دیتی نہ ہاتھ لگاتی ہوں۔کیوں کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تیرے اندر بھول گیا ہے (یعنی تو تو باتجھ تھی مگر اب تیرے پیٹ میں بچہ معلوم ہوتا ہے۔پس خدا نے تجھے (نعوذباللہ )بھول کر حمل کروا دیا ہے۔مؤلف سیرۃ)اور اس نے گھر سے باہر آکر بھی یہی کہنا شروع کیا کہ خدا بھول گیا مگر میں نے اسے کہا کہ ایسا نہ کہو بلکہ میں بے مرزا صاحب سے دعا کروائی تھی۔"پھر منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ میں حمل کے پورے آثار ظاہر ہو گئے اور میں نے ارد گرد سب کو کہنا شروع کیاکہ اب دیکھ لینا کہ میرے لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگا بھی خوبصورت مگر لوگ بڑا تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو واقعی بڑی کرامت ہے۔آخر ایک دن رات کے وقت لڑکا پیدا ہوا اور خوبصورت ہوا۔میں اسی وقت دھرم کوٹ بگّا گیا جہاں میرے کئی رشتہ دار تھے اور لوگوں کو اس کی پیدائش سے اطلاع دی چنانچہ کئی لوگ اسی وقت بیعت کے لئے قادیان روانہ ہو گئے۔