انوارالعلوم (جلد 8) — Page 193
۱۹۳ نفع اٹھا سکتے ہیں اور اس پر کیا یقین کر سکتے ہیں؟ پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ جو بات اس قانون قدرت سے ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی خدا اس دنیا کا خالق ہونا چاہئے مگر ہونا چاہئے ایک ظن ہے یہ استدلال ہمیں یقین کے مقام تک ہرگز نہیں پہنچاسکتا۔ہم روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک بات جس کا سبب ہمیں معلوم نہیں ہوتا ہم عقل سے اس کا ایک سبب دریافت کرتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل سبب اور ہی ہے اور ہمارے خیالات بالکل غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔پس کیا یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ ہم چونکہ ابھی تک مادہ اور اس کی بناوٹ اور اس کی خصوصیات اور اس کے محرکات عمل سے پوری طرح واقف نہیں اس لئے یہ خیال کرتے ہوں کہ اس کارخانہ عالم کے چلانے کے لئے علاوہ قوانین قدرت کے کوئی اور مدبر بھی ہونا چاہئے لیکن درحقیقت مادہ کی بعض خصوصیات اور اس کے محرکات عمل ایسے ہوں جن کی وجہ سے وہ کسی بیرونی مدبر کا محتاج نہ ہو بلکہ خود بخود ہی سب کام کر سکتا ہو؟ پس جب ایسے احتمالات موجود ہیں تو یہ دلیل ہمیں کب تسلی دے سکتی ہے؟ تسلی وہی دلیل دے سکتی ہے جو ہونا چاہئے کے مقام سے بلند کر کے ہمیں ہے کے مقام تک پہنچا دے اور شک و شبہ کا احتمال مٹا دے اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفت خلق کا ہم اپنی آنکھوں سے مطالعہ کر لیں اور کود دیکھ لیں کہ وہ پیدا کرتا ہے۔مگر یہ یقین ہمیں کوئی مذہب دلانے کے لئے تیا رنہیں سوائے حضرت مسیح موعود کے جو ہمیں اس یقین کے مقام تک پہنچاتے ہیں اور اس عرفان سے ہمیں حصہ دیتے ہیں آپ ہمیں یہ نہیں کہتے کہ مان لو کہ کوئی خدا ہے اور وہ خالق ہے بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ آؤ میں تمہیں خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہوا دکھا دوں اور اس امر کا یقین دلا دوں کہ نیچر نہیں بلکہ نیچر کا پیدا کرنے والا خدا پیدا کرتا ہے اس قسم کے ثبوت جو آپ نے دئیے ہیں گو بہت سے ہیں مگر مثال کے طو پر میں دو تین پیش کر دیتا ہوں۔یاد رکھنا چاہئے کہ کسی شخص کے کسی کام کا سبب ہونے کا مکمل ثبوت تبھی مل سکتا ہے جب ہم اس کی طاقت کا دو طرح نمونہ دیکھیں ایک تو یہ کہ جب وہ چاہے تو وہ کام ہو جائے اور دوسرے یہ کہ جب وہ نہ چاہے تو نہ ہو۔اگر صرف ایک پہلو ظاہر ہو۔یعنی جب وہ چاہے تب وہ کام ہو جائے تب بھی ہمارے دل میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید اس کام کے مدبر ایک سے زیادہ ہوں اور وہ بھی اسی طرح اس کام کو کر سکتے ہوں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ یہ کام صرف فلاں شخص کر سکتا ہے تو ہمیں دو قسم کے ثبوت دینے چاہئیں۔ایک تو یہ کہ ہم ثابت کریں کہ اس کام کے کرنے پر وہ