انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 577

۵۷۷ پس اب جبکہ خدا تعالیٰ مسیح موعودؑ میں ہوکر بولا ہے تو ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ اس کی آواز کی طرف توجہ کریں اور اپنی مرضی کو اس کی مرضی پر مقدم نہ کریں۔اے ہمشیرگان وبرادران! آپ لوگوں نے خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک قدم اُٹھایا ہے مگر کیا جب آپ کو معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کی رضا دوسرے قدم کے اُٹھانے کے بعد مل سکتی ہے تو کیا آپ دوسرا قدم نہیں اُٹھائیں گے اور صرف اس امر پر کفایت کریں گے کہ جو ہم نے کرنا تھا کرلیا- بے شک آپ کا حق ہے کہ آپ اس امر پر غور کریں کہ مدعی کا دعویٰ سچا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ثابت ہوتو اس سے جھوٹوں والا سلوک کریں اور اگر وہ پاگل ثابت ہوتو اس سے پاگلوں والا سلوک کریں- یہ آپ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اگر وہ سچا ہے تو بھی ہمیں اس کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں- اس کا بغیر کسی جدید قانون کے آنا ہرگز اس امر کا ہمیں مجاز نہیں کردیتا کہ ہم اسے قبول نہ کریں- یوشعؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، یوحناؑ، مسیحؑ بغیر کسی قانون کے آئے تھے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ نے ان پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا- حق یہ ہے کہ نبی صرف نئی شریعت کے بیان کرنے کے لئے نہیں آتے بلکہ بسا اوقات وہ نئی روح کے پیدا کرنے کے لئے ہ ی آتے ہیں اور اس کے لئے ضرورت ہے کہ لوگ ان سے تعلق پیدا کریں- پس خدا تعالیٰ اپنی رضا کو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے وابستہ کردیتا ہے تا لوگ مجبور ہوں کہ ان کا ساتھ دیں اور اس طرح وہ اتحاد پیدا ہو اور وہ روح پیدا ہو جس کے پیدا کرنے کے لئے ان کو بھیجا گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلاف بُری چیز ہے لیکن کون نبی آیا ہے جس کے آنے سے یہ ظاہراً اختلاف نہ پیدا ہوا ہو- کیا موسٰیؑ کے وقت میں کیا مسیحؑ کے وقت میں کیا نبی کریمؐ کے وقت میں اختلاف پیدا نہیں ہوا؟ کیا پھر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کو دعویٰ کرنے پر مجبور نہیں کیا- ہم دنیا میں ایک ڈاکٹر کو اس امر کا اہل سمجھتے ہیں کہ وہ جب سمجھے کہ ہمارے جسم کو چیرنے کی ضرورت ہے اسے چیرنے دیں کیونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہماری صحت اس چیرنے پھاڑنے سے وابستہ ہے مگر کیا یہ امر تعجب کے قابل نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو اس کا اہل نہیں سمجھتے اور اس کے فیصلہ پر اعتراض کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس نے اختلاف کے سامان کیوں پیدا کئے۔مگر حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کے ذریعہ سے اختلاف پیدا نہیں کرتا بلکہ اختلاف کو ظاہر کرتاہے- نبی سورج کی طرح ہوتے ہیں ان کے آنے سے دلوں کی حالت ظاہر ہوجاتی ہے جس طرح سورج کے نکلنے سے رنگوں کا اختلاف ظاہر ہوجاتا ہے- کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ سورج بُری چیز ہے کیونکہ اس کے نکلنے