انوارالعلوم (جلد 8) — Page 576
۵۷۶ پس چونکہ آپ نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے ذریعہ سے ایک نئی جماعت بنائی جاتی جس طرح کہ ہمیشہ سے نبیوں کے زمانہ میں نئی جماعتیں بنائی جاتی رہی ہیں- پس خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں دین کی ترقی حضرت مسیح موعودؑ بانی سلسلہ احمدیہ کے ساتھ وابستگی کے ساتھ معلّق کردی ہے اور اس سلسلہ کے بغیر اسلام کے زندہ رہنے کی کوئی اُمید نہیں ہے- انسانی عقل انہیں واقعات کے متعلق سوچ سکتی ہے جن کے سب اسباب سامنے موجود ہوں مگر خدا تعالیٰ اس غیب سے واقف ہے جس تک انسان کی نظر نہیں پہنچ سکتی- پس فیصلہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ وہی ہے جو مَیں نے اوپر بیان کیا ہے۔اے ہمشیرگان وبرادران! آپ لوگوں نے اس مذہب کو چھوڑ کر جس پر آپ کے باپ دادا چل رہے تھے ایک نئے مذہب کو اختیار کیا ہےآپ کی یہ قربانی قابل قدر ہے مگر آپ کو معلوم ہے کہ اسلام کیا ہے ؟ اسپلام کے معنی کامل طور پر سپرد کردینے کے ہیں اور جب تک کہ انسان اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے کامل طور پر سپرد نہیں کردیتا وہ نام میں تو مسلم ہوتا ہے مگر حقیقت میں مسلم نہیں ہوتا مگر کیا نام حقیقت کے مقابلہ میں کوئی حقیقت رکھتا ہے ؟ کوئی نام نفع نہیں بخشتا جب تک اس کے ساتھ حقیقت بھی نہ ہو- پس جب کہ خدا تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ اس وقت وہ ان لوگوں کے ذریعہ سے اسلام کو فتح اور غلبہ دے جواحمدیت سے منسوب ہیں تو پھر اگر ہمارا یہ دعویٰ کہ ہم خدا تعالیٰ کو سب کچھ سپرد کرچکے ہیں سچا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہیں جو اس زمانہ میں بلند کی گئی ہے۔تمام نبی اور تمام قانون اسی لئے عزت کے مستحق ہوتے ہیں کہ وہ اس ہستی کی طرف سے آتے ہیں جو کبھی غلطی نہیں کرتی- اگر نوحؑ کے زمانہ میں نوحؑ کی آواز پرلبیک کرنا ضروری تھا۔اگر ابراہیم ؑ کے زمانہ میں ابراہیم ؑ کی آواز پر میں پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بولتا تھا- اور موسٰیؑ کے زمانہ میں اورپھر مسیحؑ کے زمانہ میں ان کی زبان پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی طرف بلاتے تھے ورنہ یہ لوگ ہمارے جیسے آدمی تھے- اگر خدا تعالیٰ کی آواز ان کے پیچھے نہ ہوتی تو ان کو کوئی رتبہ حاصل نہ تھا- پس اصل آواز خدا کی ہے خواہ وہ کسی منہ سے نکلے اس کا قبول کرنا ضروری ہے اور اس کی طرف سے بے پروائی کرنے سے کبھی روحانی ترقی حاصل نہیں ہوسکتی-