انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 272

۲۷۲ دیکھنے کی اجازت دی ہے تاکہ اگر شکل میں کوئی ایسا نقص ہو جو بعد میں محبت کے پیدا ہونے میں روک ہو تو اس کا علم مرد اور عورت کو ہو جائے۔شادی کے ساتھ ہی شریعت اسلام نے عورت کے لئے علیحدہ جائداد کا انتظام کیا ہے اور اس کو شادی کا ایک ضروری جزو قرار دیا ہے اسے اسلامی اصطلاح میں مہر کہتے ہیں۔اس کی غرض یہ ہے کہ عورت کی ایک علیحدہ جائداد بھی رہے تاکہ وہ اپنی شخصیت کو قائم رکھ سکے اور اپنے طور پر صدقہ دے سکے یا صلہ رحمی کر سکے۔گویا مہر کے ذریعہ سے پہلے دن سے ہی مرد سے یہ اقرار کرا لیا جاتا ہے کہ عورت اس امر کی حقدار ہے کہ اپنی الگ جائداد بنائےاور خاوند کو اس کے مال پر کوئی تصرف نہیں ہو گا۔پھر عورت کا یہ حق مقرر کیا ہے کہ خاوند عورت کو بِلا کسی کھلی کھلی بدی کے سزا نہیں دے سکتا۔اگر سزا دینی ہو تو اس کے لئے پہلے ضروری ہو گا کہ محلہ کے چار واقف مردوں کو گواہ بنا کر ان سے شہادت لے کر عورت واقعہ میں خلاف اخلاق افعال کی مرتکب ہوئی ہے۔اس صورت میں بے شک سزا دے سکتا ہے۔مگر وہ سزا تدریجی ہو گی چنانچہ فرمایا وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا۔وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا(النساء:35-36) پہلے وعظ۔اگر وہ اس سے متأثر نہ ہو تو کچھ عرصہ کے لئے اس سے علیحدہ دوسرے کمرے میں سونا۔اگر اس کا اثر بھی عورت پر نہ ہو تو گواہوں کی گواہی کے بعد بدنی سزا کا دینا۔جس کے لئے شرط ہے کہ ہڈی پر چوٹ نہ لگے اور نہ اس مار کا نشان پڑے۔اور یہ بھی شرط ہے کہ سزا صرف فحش کی وجہ سے دی جاتی ہے نہ کہ گھر کے کام وغیرہ کے نقص کی وجہ سے۔قطع تعلق کی صورت میں حکم ہے کہ وہ چار ماہ سے زیادہ کا نہیں ہو سکتا۔اگر چار ماہ سے زیادہ کوئی خاوند اپنی بیوی سے الگ رہے تو اسے قانون مجبور کرے گا کہ عورت کے حقوق ادا کرے اور خرچ کی ادائیگی سے تو وہ ایک دن کے لئے بھی انکار نہیں کر سکتا۔مرد پر فرض ہے کہ عورت کے کھانے پینے، پہننے اور مکان کی ضروریات مہیا کرے خواہ عورت مالدار اور مرد غریب ہی کیوں نہ ہو۔اسی طرح مرد کو حکم ہے کہ عورت سے محبت اور پیار کا معاملہ کرے نہ حکومت اور سختی کا بلکہ قرآن کریم نے فرمایا کہ عورتوں سے صلح ہو یا جنگ دونوں صورتوں میں احسان کا ہی معاملہ کرو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا استوصوا بالنساء خیرًا