انوارالعلوم (جلد 8) — Page 271
۲۷۱ روشنی ڈال دی ہے اور گو میرے نزدیک اس علم کے ماہرین استنباط نتائج میں حد سے بہت ہی بڑھ گئے ہیں لیکن پھر بھی اس حد تک ان کی بات درست ہے اور اسلام ان کی تاید کرتا ہے کہ ماں باپ کی دماغی قابلیتوں اور ان کے خیالات کا اثر ایک حد تک اولاد پر ضرور پڑتا ہے پس اس وجہ سے خاوند اوربیوی کا انتخاب ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے۔پس شریعت اسلام نے پہلی بنیاد تو تمدن کی یہ رکھی کہ نکاح میں عقل اور فہم اور ذکا کو خوبصورتی اور مال اور خاندان پر ترجیح دیدی۔میرا یہ مطلب نہیں کہ اسلام حسب نسب یا مال یا خوبصورتی کو بالکل ہی نظر انداز کرتا ہے بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ اسلام ان کو اصل مقصود قرار نہیں دیتا۔اگر کوئی عورت مرد دیانتداری سے محض ذہانت اور اخلاق اور دین کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے سے تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی خوبصورتی اور مال اور حسب و نسب بھی مل جاتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے مگر یہ امور مقصود نہیں ہونے چاہئیں۔اگر شادیاں اس اصل پر ہونے لگیں تو ملک کی اخلاقی حالت کی درستی کے علاوہ آئندہ نسلیں نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی پیدا ہوں۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اسلام نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ علاوہ اسکے کہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کی نسبت تسلی کر لیں عورت کے رشتہ دار بھی تسلی کر لیں کہ واقع میں مرد ایسے اخلاق کا ہے کہ اس سے رشتہ کرنا عورت کے لئے بھی اور آئندہ نسل کے لئے بھی مفید ہو گا اور نکاح کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ مرد کی پسند ہو عورت کی منظوری ہو اور عورت کے باپ یا بہائی جو خاندان کا بڑا مرد ہو اس کی منظوری ہو اور اگر کوئی مرد خاندان میں نہ ہو تو حاکم شہر اس امر کی تسلی کرے کہ کسی عورت کو کوئی شخص دھوکا دے کر تو شادی نہیں کرنے لگا۔عورت اور مرد میں اس وجہ سے فرق رکھا گیا ہے کہ مرد طبعاً ایسے امور میں حیا کم کرتاہے اور خود دریافت کر لیتا ہے اور عورت شرم کرتی ہے اوراس کے احساسات تیز ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ جلد دھوکا میں آجاتی ہے۔پس اس کے لئے اس کے خاندان کے بڑے مرد کی تحقیق اور منظوری یا ایسے کسی آدمی کی عدم موجودگی میں حاکم شہر کی منظوری ضروری رکھی ہے۔اگر اس حکم پر عمل کیا جائے تو وہ بہت سے دھوکے اور فریب جو شریف الطبع اعتماد کرنے والی عورتوں سے کئے جاتے ہیں یک دم دو رہو جائیں۔چونکہ اسلام میں پردہ کا حکم ہے اس لئے نکاح کے ابتدائی امور طے ہو جانے اور دیگر امور میں تسلی ہو جانے پر مرد اور عورت کو آپس میں ایک دوسرے کو کھلے طور پر