انوارالعلوم (جلد 8) — Page 273
۲۷۳ عورتوں سے نیک معاملہ کرنے کے متعلق میری نصیحت کو یاد رکھو۔اسی طرح فرمایا لا یفرک مومن مومنۃ ان کرہ منھا خلقا رضی منھا اٰخر خاوند اپنی بیوی سے نفرت نہ کرے اس وجہ سے کہ اس میں کوئی عیب ہے کیونکہ اگر اس میں کوئی عیب ہے تو کوئی خوبی بھی ہے۔اسی طرح آپ نے فرمایا عورت کا حق اس کے خاوند پر یہ ہے کہ وہ جیسا کپڑا خود پہنے ویسا اسے پہنائے اور جیسا کھانا خود کھائے ویسا اسے کھلائے اور یہ کہ اسے گالی نہ دے اور اس سے الگ جا کر نہ رہے۔پھر فرمایا کہ کسی مرد کے لئے جائز نہیں کہ دن رات عبادت یا دوسرے کاموں میں مشغول رہے اور اپنی بیوی کے حقوق کو نظر انداز کر دے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے وقت میں سے ایک حصہ اپنی بیوی کے لئے بھی فارغ کرے۔اسی طرح فرمایا کہ خیارکم خیارکم لنساءھم تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں ان کے بالمقابل عورت کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے خاوند کی فرمانبردار رہے۔اس کے مال کو ضائع ہونے سے بچائے۔اس کی عزت کی حفاظت کرے اس کی اولاد کی اچھی طرح پرورش کرے۔اگر عورت مرد کے تعلقات کسی وقت بگڑ جائیں تو حکم ہے کہ جس قدر ہو سکے صلح کی کوشش کریں۔اگر آپس میں صلح نہ ہو سکے اور فساد بڑھتا ہی جائے تو اسلام کہتا ہے کہ ایک حَکم مرد کے عزیزوں یا عزیز نہ ہوں تو دوستوں میں سے، ایک عورت کے عزیزوں یا عزیز نہ ہوں تو اس کے خیر خواہوں میں سے مقرر کیا جائے دونوں مل کر نا اتفاقی کی وجوہ پر غور کریں۔اگر ان کے نزدیک صلح ممکن ہو تو ان تجاویز کے ذریعہ سے جو ان کے ذہن میں ہوں صلح کرانے کی کوشش کریں اگر ان کے نزدیک صلح کی کوئی صورت ممکن نہ ہو یا ان کی تجاویز ناکام ہو جائیں تو پھر مرد کو اجازت ہو گی کہ وہ عورت کو طلاق دے دے یعنی اپنے نکاح کے فسخ کرنے کا اعلان کر دے اس اعلان فسخ نکاح کے لئے بھی شرائط مقرر ہیں مثلاً علی الاعلان ہو۔اسی طرح پسند کیا گیا ہے کہ ایک ایک ماہ کے بعد تین دفعہ کر کے ہو تاکہ شاید اس عرصہ میں پھر دل درست ہو جائیں تو صلح کر لیں جس کا دروازہ آخری اعلان تک کھلا رکھا گیا ہے۔اگر عورت کو خاوند سے شکایت ہو اور وہ الگ ہونا چاہے تو جس طرح ان کے نکاح کے وقت اس کے سب سے قریبی مرد رشتہ دار یا حاکم کی وساطت ضروری رکھی گئی تھی اس موقع پر بھی یہ شرط مقرر کی گئی ہے کہ وہ حاکم وقت کی وساطت سے خاوند سےعلیحدہ ہو۔اگر حاکم دیکھے کہ اس کا