انوارالعلوم (جلد 8) — Page 577
انوار العلوم جلد ۸ ۵۷۷ دورہ کو رپ پس اب جبکہ خدا تعالیٰ مسیح موعود میں ہو کر بولا ہے تو ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ اس کی آواز کی طرف توجہ کریں اور اپنی مرضی کو اس کی مرضی پر مقدم نہ کریں۔ سیر اے ہمشیرگان و برادران ! آپ لوگوں نے خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے ایک قدم اٹھایا ہے مگر کیا جب آپ کو معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کی رضاء دوسرے قدم کے اٹھانے کے بعد مل سکتی ہے تو کیا آپ دو سرا قدم نہیں اٹھائیں گے اور صرف اس امر پر کفایت کریں گے کہ جو ہم نے کرنا تھا کر لیا۔ بے شک آپ کا حق ہے کہ آپ اس امر پر غور کریں کہ مدعی کا دعوی سچا ہے یا نہیں؟ اگر وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ثابت ہو تو اس سے جھوٹوں والا سلوک کریں اور اگر وہ پاگل ثابت ہو تو اس اسے سے پاگلوں والا سلوک کریں لیکن یہ آپ ہر گز نہیں کہہ کہہ : سکتے کہ اگر وہ سچا ہے تو بھی ہمیں اس کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا بغیر کسی جدید قانون کے آنا ہرگز اس امر کا ہمیں مجاز نہیں کر دیتا کہ ہم اسے قبول نہ کریں۔ یوشع ، داؤد سلیمان یوحنا، مسیح بغیر کسی قانون کے آئے تھے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ نے ان پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا ۔ حق یہ ہے کہ نبی صرف نئی شریعت کے بیان کرنے کے لئے نہیں آتے بلکہ بسا اوقات وہ نئی روح کے پیدا کرنے کے لئے ہی آتے ہیں اور اس لئے ضرورت ہے کہ لوگ ان سے تعلق پیدا کریں۔ ایک خدا تعالیٰ اپنی رضاء کو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے وابستہ کر دیتا ہے تالوگ مجبور ہوں کہ ان کا ساتھ دیں اور اس کا طرح وہ اتحاد پیدا ہو اور وہ روح پیدا ہو جس کے پیدا کرنے کے لئے ان کو بھیجا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلاف بری چیز ہے لیکن کو نسا نبی آیا ہے جس کے آنے سے بظاہر اختلاف نہ پیدا ہوا ہو ۔ کیا موسیٰ کے وقت میں کیا مسیح کے وقت میں کیا نبی کریم اللہ کے وقت میں اختلاف پیدا نہیں ہوا؟ کیا پھر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کو دعوی کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ ہم دنیا میں ایک ڈاکٹر کو اس امر کا اہل سمجھتے ہیں کہ وہ جب سمجھے کہ ہمارے جسم کو چیرنے کی ضرورت ہے اسے چیرنے دیں کیونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہماری صحت اس چیرنے پھاڑنے سے وابستہ ہے مگر کیا یہ امر تعجب کے قابل نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو اس کا اہل نہیں سمجھتے اور اس کے فیصلہ پر اعتراض کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس نے اختلاف کے سامان کیوں پیدا کئے ۔ مگر حق یہ ہے کہ خدا تعالی نبیوں کے ذریعہ اختلاف پیدا نہیں کرتا بلکہ اختلاف کو ظاہر کرتا ہے ۔ نبی سورج کی طرح ہوتے ہیں ان کے آنے سے دلوں کی حالت ظاہر ہو جاتی ہے جس طرح سورج کے نکلنے سے رنگوں کا اختلاف ظاہر ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ سورج بری چیز ہے کیونکہ اس کے نکلنے