انوارالعلوم (جلد 8) — Page 25
انوار العلوم جلد ۸ ۲۵ بھائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا ؟ سے لکھے تھے۔ یعنی بہاء اللہ بھی صادق - حضرت صاحب بھی صادق لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيسَى والی حدیث کو مانتا ہوں اور اس کا مصداق بہاء اللہ کو جانتا ہوں۔ میں برھان الصحيح" ९९ کے مناظر سے اس امر میں متفق ہوں کہ مہدی اور مسیح دو شخص ہیں۔ حضرت مرزا صاحب کی تحریر کے مطابق کہ مہدی بہت سے ہیں۔ از انجمله مہدی ہند حضرت مرزا صاحب بھی۔ نزول ابن مریم کی حدیث بہاء اللہ کے متعلق ہے ۔ ضمنا مرزا صاحب کے متعلق۔ لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقاً والی حدیث صاف طور پر بہاء اللہ کے متعلق ہے کیونکہ وہ صاف طور پر فارسی تھے ۔ اگر ثابت ہو جائے کہ بہاء اللہ کا دعویٰ نہیں یا دعوئی ہے مگر دلائل نہیں تو اب بھی اس خیال کو چھوڑنے کے واسطے تیار ہوں۔ میری بیوی نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ بہائی نما زیاد کرے مگر اب تک نہیں کی۔ میری بیوی نے جتنا احمدیت کو سمجھا تھا اس سے زیادہ بہائی ازم کو سمجھا ہے۔ میں نے کتاب اقدس کے بعض حصے اپنی بیوی کو پڑھ کر سنائے ہیں ۔ جتنا یقین احمدیت کو قبول کرنے کے وقت مجھے تھا اتنا اب بہائی ازم پر ہے۔ بیان مهر محمد خان ( دستخط) محفوظ الحق علمی مولوی محفوظ الحق صاحب نے مجھے کوئی کتاب بہائی ازم پر نہ دی نہ میں نے ان سے لی ۔ البتہ ان کی بیٹھک میں میں نے ایک کتاب پڑی دیکھی اور اٹھا کر پڑھی۔ میں بہائی نہیں ہوں مجھے معلوم نہیں کہ مولوی محفوظ الحق صاحب بہائی ہیں یا نہیں لیکن وہ اس کا مطالعہ رکھتے ہیں اور میں جانتا۔ ہوں کہ وہ اس کے مکذب نہیں ۔ وہ بہاء اللہ کے دعاوی الهام کو سچا سمجھتے ہیں۔ ان سے باتیں بہائی ازم پر ہوتی رہتی ہیں۔ میں ان کے ہاں کھانا کھاتا ہوں ہر قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے مجھے ایسا کہا ہے کہ بہائی ازم کو سوچنا چاہئے غور کرنا چاہئے۔ میرے سامنے کبھی اور کوئی آدمی ان کے پاس خصوصیت سے نہیں آیا ۔ عام طور پر لوگ آتے ہیں محمد الدین اور حافظ عبدالرحمن دو طالب علم بھی ان کے پاس آتے ہیں وہ مولوی علمی صاحب بہاء اللہ کو راستباز سمجھتے ہیں۔ میں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ بہاء اللہ کو جھوٹا کہوں کیونکہ میں نے اس کے متعلق دیکھا نہ تھا۔ میں اس کو مفتری یا پاگل نہیں جانتا۔ میرے نزدیک اس کا دعویٰ صحیح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ خدا کی طرف سے الہام پانے کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ سچا ہے ۔ میں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ