انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 24

۲۴ کہا کہ بعض نے حضرت مرزا صاحب مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے پورے نہیں ہوئے مگر وہ راستبازی میں مخل نہیں۔مضمون میثاق النّبیّن میں جو میں نے لکھا ہے کہ موعود آگیا اس میں اول درجہ بہاء اللہ ہیں دوم درجہ پیر مرزا صاحب۔میں نے کسی سے ایسانہیں کہانہ مجھے معلوم ہے کہ کسی اور نے کہا کہ الفضل میں بعض ایسے مضامین لکھے گئے ہیں جن سے بعد میں بہائی ازم کی تائید نکلے۔عبدالجبار سے میری ملاقات اور گفتگو متعلق بہائی ازم ہوتی رہی۔اس وقت کچھ اختلاف یا اتفاق ان کے ساتھ نہ کرتا تھا۔علیگڑھ میں بھی دو ایک کتا بیں دیکھی ہیں میری بیوی کہتی ہے کہ وہ میرے ساتھ ہے۔تین بہائی نمازیں نہیں پڑھتی۔ان نمازوں کی فرضیت کا ظہوراس وقت ہو گا۔جب بیت العدل اعظم قائم ہو گا۔میں نے اپنی بیوی کو بہائی تذکروں کے وقت یہ بھی کہا تھا کہ کسی سے ذکر نہ کرنا۔میرا ارادہ ہے کہ جس عقیدہ پر قائم ہو چکا ہوں اس کو لوگوں تک پہنچاؤں- اگر حضرت خلیفۃ المسیح فرماویں کہ تم خاموش رہو اور اسی عقیدہ کا اوروں کے سامنے اظہار نہ کرو تو میں حالت موجو دہ میں اس علم کی تھیں اس وقت تک کروں گا جب تک کہ مجھے اس کے اظہار کی خواہش نہ پیدا ہو۔سوال: - کیا آپ نے کوئی اراده و کوشش یا تجویز اس امر کے متعلق کی کہ بغیرعام اعلان کے کوئی اس امر کو قبول کرلے۔جواب:۔میں نے کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی بعض دوستوں سے تذکرہ ہوتا رہا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ کیا حالات نہیں آتے۔ممکن تھا کہ میں اعلان کر تا ممکن تھا نہ کرتا یاد نہیں کہ کسی کے سامنے بہائی تین نمازیں پڑھی ہوں۔ہم نے دہلی سے کوئی کاتب کتاب لکھوانے کے لئے نہ منگوایا تھا۔میرا دوست ہے ملنے آیا تھا احمدی ہے۔کتابت بھی کرتا ہے وہ کاتب یہاں دو تین ماہ رہا۔میں نے اللہ دتہ کو کہا تھا کہ یہ نوٹ بک کسی کو نہ دکھائیں جس سے کسی احمدی کو تکلیف ہو۔اس واسطے میں نے اس کو مخفی رکھا کہ کوئی شخص اصل بات کو نہ سمجھ کر مسیح موعود کو کبھی نہ چھوڑدے۔علمی پریس کا میں مالک ہوں ایک اور شخص بھی شریک ہیں جو بہائی ہیں۔علیگڑہ میں جج صاحب کے ساتھ معمولی طور پر کبھی ذکر بہائی مذہب کا ہو ا۔پر یس جاری کرنے میں منشاء تجارتی تھا کہ اس سے گزارہ چل جائے اشاعت لٹریچر بھی خیال تھا کبھی ایسا خیال نہیں ہوا کہ اس پر یس کو قادیان میں لایا جائے۔وہ پر یس پانچ چھ ماہ سے قائم ہے۔الفضل میں جو مضامین لکھے تھے ، اپنے نقطہ خیال