انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 26

۲۶ بہاء اللہ افضل ہے یا حضرت مرزا صاحب۔بہاء اللہ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ہے اور میں اس دعویٰ میں ان کو سچا سمجھتا ہوں۔میں بہاء اللہ کو نبی سمجھتا ہوں۔اس نے تشریعی نبوت کا دعوی ٰکیا ہے۔میں اس کو اس دعویٰ میں سچا سمجھتا ہوں۔مجھے علم نہیں کہ قرآن شریف کے کچھ احکام منسوخ ہوئے ہیں یا نہیں۔جلسہ کے بعد سے میرے ایسے خیالات ہیں۔کتاب مبین میں نے مولوی صاحب کے مکان پر دیکھی ہے۔میں قرآن شریف کے تمام علموں پر ایمان لاتا ہوں۔اور عمل کرتا ہوں۔مجھے معلوم نہیں کہ مولوی صاحب کا ارادہ کوئی کتاب لکھنے کا ہے ہاں ان کا یہ ارادہ ہے کہ اس سارے معاملہ کو حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور پیش کریں۔مجھے معلوم نہیں کہ اب تک مولوی صاحب نے اس کا اخفاء کیوں رکھا۔ماسٹر اللہ دتہ صاحب سے میری معمولی ملا قات ہے۔سید عبد اللہ سے میں واقف ہوں۔میں نے ان کو کوئی کتاب ’’مقالہ سیاح“ انگریزی نہین دی۔مسٹر حشمت اللہ کو بھیجنے کے واسطے میں نے کوئی کتاب نہیں دی۔میں نے عبداللہ کو کتاب ’’کلمات مکنونہ‘‘ پڑھنے کے واسطے دی تھی۔یہ کتاب مسٹر حشمت اللہ نے مجھے آگرہ میں دی تھی اور بہتوں کو بھی دی تھی میرے ساتھ حشمت اللہ کی خط و کتابت نہیں۔مجھے معلوم نہیں کہ اللہ دتہ نے روزے بہائی رکھے ہوں۔میں روزانہ صبح عبد اللہ کے مکان پر نہیں جاتا۔کہیں اتفاقی ملاقات ہوتی ہے \" قرآنی طاقتوں کا جلوگاه‘‘ جو مولوی محفوظ الحق صاحب لکھ رہے ہیں میں نے نہ دیکھا اور نہ پڑھا۔یہ مجھے علم ہے کہ وہ کچھ نوٹ کر رہے ہیں۔میں نے ان نوٹوں کے لکھنے میں کچھ مدد نہیں کی۔الفضل میں جو مضامین لکھے ہیں ان کے متعلق کوئی خاص گفتگو مولوی علی صاحب سے نہیں ہوئی۔جب میں \"ٹری ٹوریل‘‘ میں تھا میری کوئی خط و کتابت علمی صاحب سے نہیں ہوئی۔میرا فیصلہ متعلق بہاء اللہ کہ وہ مفتری نہیں جلسہ سے بعد کا اور نری ٹوریل‘‘ پر جانے سے قبل کا ہے۔مولوی علمی صاحب نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اہم ہے۔اس کے متعلق تحقیقات کرنی چاہئے۔میں نے کہا جب کوئی کتاب نہیں تو کیا تحقیقات کریں۔اس پر وہ’’ کتاب مبین‘‘ ماسٹر نواب الدین سے لائے اور میں نے پڑھی۔جنوری میں پڑھی۔بہاء اللہ کی تصنیف ہے۔جو رسالہ میں آگرہ سے لایا میں نے پڑھا۔وہ تراجم اقوال بہاء اللہ ہیں۔میرا خیال ہے کہ اگر اس سے قبل بات کھل کر مولوی صاحب کا خیال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوتا تو اچھی بات تھی۔میرے سامنے مولوی محفوظ الحق صاحب نے بھی حضرت مرزا صاحب کی پیش گوئیوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔مولوی محفوظ الحق علمی صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ بعد قرآن نئی شریعت آ سکتی ہے، مولوی محفوظ الحق