انوارالعلوم (جلد 8) — Page 537
انوار العلوم جلد ۸ ۵۳۷ دورہ یورپ سے یہ درخواست کروں گا کہ ہندوستانی طبیعت کا زیادہ مطالعہ کریں اور اپنی تقریروں اور تحریروں اور سلوک میں ہندوستانیوں کے احساسات کا خیال رکھیں۔ مجھے تعجب آتا ہے جبکہ میں انگریزوں سے سنتا ہوں کہ ہندوستانی انگریزوں کی طبیعت کا مطالعہ نہیں کرتے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ درست ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ انگریز ہندوستانی کی طبیعت کا بہت ہی کم مطالعہ کرتے ہیں۔ جس قوم کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ہو اس کا فرض ہے کہ وہ پہلے قدم اٹھائے۔ پس چاہئے کہ برطانیہ کے لوگ ہندوستانیوں کی طبیعت کا گہرا مطالعہ کریں پھر ان سے ہمدردانہ معاملہ کریں اس سے لازما ہندوستانیوں کی بدظنیاں دور ہو جائیں گی اور طبائع اس امر کے لئے تیار ہو جائیں گی کہ ٹھنڈے دل سے ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے باہم بیٹھ کر غور کر سکیں جن کی موجودگی دونوں قوموں کو تکلیف دے رہی ہے۔ اگر تھوڑی سی احساسات کی قربانی اگر تھوڑا سا جذبات کو دباتا ہندوستان کے ہیرے کو جو برٹش تاج کی زینت رہا ہے مگر اس وقت اپنی جگہ سے ہل رہا ہے پھر اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم کر دے تو کیا آپ لوگ اس کے لئے تیار نہیں ہوتے؟ مجھے یقین رکھنا چاہیئے کہ ضرور ہوں گے !!! (الفضل یکم نومبر ۱۹۲۴ء)