انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 538

۵۳۸ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیم (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کالیکچرجو ۲۸ ستمبر ۱۹۲۴ء کی شام کو لندن میں بزبان انگریزی پڑھا گیا) أعوذ بالله من الشيطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسولہ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – ھو الناصر صدر جلسہ ! میرے عزیز نوجوانان ِانگلستان!بہنو اور بھائیو!!!مجھے نہایت خوشی ہوئی ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے اس شخص کے حالات اور تعلیم بیان کرنے کا موقع دیا ہے جو انسانوں میں سے مجھے سب سے زیادہ پیارا اور عزیز ہے اور جو نہ صرف بڑی عمر کے لوگوں کا راہنما ہے بلکہ چھوٹے بچوں کا بھی راہنماہے۔ہر انسان کی زندگی کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور کئی نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھ کر اس کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔میں آج رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی اور آپؐ کی تعلیم کے متعلق اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے روشنی ڈالوں گا کہ نوجوان اور بچے اس سے کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں؟ آپ ﷺکی جائے پیدائش تیرہ سو سال سے زیادہ کاعر صہ ہوا کہ ۲۰ اپریل ۵۷۱ء کو عرب کے ملک میں بحیرہ احمر کے مشرقی کناروں کے قریب ساحل سمندر سے ۴۰ میل کے فاصلہ پر مکّہ نامی گاؤں میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ایک معمولی بچہ اس قسم کا کچھ بچہ جس قسم کے بچے کہ دنیا میں روز پیدا ہوتے ہیں مگر مستقبل اس کے لئے اپنے إخفاء کے پردہ میں بہت کچھ چھپائے ہوئے تھے۔اس بچہ کی والدہ کا نام آمنہ تھا اور باپ کا نام عبداللہ اور دادا کا نام عبد المطلّب۔اس بچہ کی پیدائش اسکے گھر والوں کے لئے دلوں میں دو متضاد جذبات پیدا کررہی تھی، خوشی اور غم کے