انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 501

انوار العلوم جلد ۸ ۵۰۱ دورہ یورپ امر کا اعلان کیا گیا ہے کہ مولوی نعمت اللہ خان کو ارتداد کی وجہ سے سنگسار کیا جائے گا۔ اور آخر میں کابل کے نیم سرکاری اخبار حقیقت کو وہ کہاں لے جائیں گے جس نے مقدمہ کی پوری کار روائی چھاپ دی ہے اور تسلیم کیا ہے کہ شہید مرحوم کے سنگسار کئے جانے کا باعث اس کا مذہب تھا۔ اور پھر وہ اس تمام خط و کتابت کو کہاں چھپا دیں گے جو کابل گورنمنٹ اور برطانیہ کی سفارت میں پچھلے سال ہوتی رہی ہے جس میں کابل گورنمنٹ نے زور دیا ہے کہ ڈاکٹر فضل کریم کو لیگیشن (LEGATION) سے وا واپس کر دیا جائے کیونکہ وہ احمدی تھے یہ تمام واقعات بتا رہے ہیں کہ افغان گورنمنٹ مذہبی طور پر احمدیوں سے عداوت رکھتی ہے ۔ یا ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اس کو عداوت ہے اور یہ کہ مولوی نعمت اللہ خان کے قتل کی وجہ صرف ان کی احمدیت تھی۔ شہادت کے حالات کے متعلق میں اور کچھ افغان گورنمنٹ ہمد ردی کی محتاج ہے نہیں کہنا چاہتا مگر میں مضمون کو ختم کرنے سے سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ باوجود اس کے لمبے عرصہ ظلم کے میں اپنے دل میں افغان گورنمنٹ اور اس کے حکام کے خلاف جذبات نفرت نہیں پاتا۔ اس کے فعل کو نہایت برا سمجھتا ہوں مگر میں اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اور وہ میری ہمدردی کی محتاج ہے ۔ اگر کوئی شخص یا اشخاص اخلاقی طور پر اس حد تک گر جائیں کہ ان کے دل میں رحم اور شفقت کے طبعی جذبات بھی باقی نہ رہیں تو وہ یقینا ان لوگوں سے جو صرف جسمانی دکھوں میں مبتلاء ہیں ہماری ہمدردی کے زیادہ محتاج ہیں۔ میں نے آج تک کسی سے عداوت نہیں کی اور میں اپنے دل کو اس واقعہ کی بناء پر خراب کرنا نہیں چاہتا اور میں سمجھتا ہوں کہ اہوں کہ میرے بچے متبع بھی اسی طریق کو اختیار کریں گے ۔ میں کسی ایسی میٹنگ میں شامل نہیں ہوتا جو اظہار غیظ و غضب کی خاطر منعقد کی گئی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ ظلم نہ ظلم سے مٹتے ہیں ں اور نہ عداوت سے ۔ پس میں نہ ظلم کا مشور ظلم کا مشورہ دوں گا اور نہ عداء عداوت کے جذبات کو اپنے دل میں جگہ دوں گا۔ میٹنگ میں شمولیت کی اغراض میں صفائی سے کہتا ہوں کہ میری اغراض اس میٹنگ میں سے یہ ہیں۔ اول - اس امر کا اظہار کہ امیر کے اس فعل کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے یہ فعل اسلام کے بالکل خلاف ہے ۔ اسلام کامل مذہبی آزادی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ حق اور باطل ظاہر امور ہیں۔ پس کسی پر زبردستی کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہر شخص کے لئے اس کا اپنادین ہے۔