انوارالعلوم (جلد 8) — Page 293
۲۹۳ بادشاہت کی طرف رجوع کریں گے مگر فرماتا ہے کہ جو نصیحت ہم نے کی ہے کہ وراثت کی بادشاہت کے قریب بھی نہ جاؤ بلکہ انتخاب کے ساتھ بہترین دماغوں کو حکومت کے لئے منتخب کیا کرو۔وہی اچھی اور مفید ہے اور اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی دنیا کی مصیبتوں کو دیکھ کر اور ان کی دعاؤں کو سن کر ہم نے یہ طریقِ حکومت تم کو بتایا ہے پس اس کی ناقدری اور ناشکری نہ کرنا۔مذکورہ بالا آیت سے یہ تو واضح ہو گیا کہ اسلامی حکومت انتخابی ہوتی ہے اور ساتھ ہی نیابتی بھی۔یعنی یہ سمجھا جاتا ہے کہ بادشاہ ملک کے لوگوں کا ان کی مجموعی حیثیت میں نہ بحیثیت افراد نائب ہے مگر اب میں اسلامی حکومت کا ایک مختصر نقشہ کھینچ دیتا ہوں جس سے اس کے تمام پہلو ذہن میں مستحضر ہو سکیں۔اسلام کایہ حکم ہے کہ مسلمان مل کر ایک ایسے شخص کو جسے وہ اس کام کے لائق سمجھیں منتخب کریں کہ وہ حکومت کی باگ اپنے ہاتھ میں لے۔اس شخص کا انتخاب مغربی ممالک کے پریذیڈنٹوں کی طرح چند سال کے لئے نہیں ہوتا بلکہ ساری عمر کے لئے ہوتا ہے اور اس انتخاب کے بعد پھر اللہ تعالیٰ ہی اس کو اس منصب سے برخواست کر سکتا ہے یعنی اسے وفات دے کر۔اس شخص کے ہاتھ میں تمام وہ طاقتیں اور اختیارات ہوتے ہیں جو حکومت کو حاصل ہوتے ہیں مگر اس شخص کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی ساری عمر کو ملک کی بہتری کے لئے صرف کر دے نہ کہ اپنی بڑائی کے حصول کے لئے۔اس کا حق بیت المال پر سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ اپنے ملک کی ضروریات پر صرف کرے اپنے لئے وہ آپ گذارہ مقرر نہیں کر سکتا بلکہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کی مجلس شوریٰ اس کے لئے گذارہ مقرر کرے۔اس کا فرض ہے کہ ایک مجلس شوریٰ کے ذریعہ سے ملک کی عام رائے کو معلوم کرتا رہے اور جب ضرورت ہو عام اعلان کر کے تمام افراد سے ان کی رائے دریافت کرے تاکہ اگر کسی وقت ملک کے نمائندوں اور ملک کی عام رائے کی مخالفت ہو جائے تو ملک کی عام رائے کا علم ہو سکے۔اس سے امید کی جاتی ہے کہ کثرت رائے کا احترام کرے لیکن چونکہ یہ ہر قسم کی سیاسی جنبہ داری سے بالا ہو چکا ہے اور حکومت میں ا س کو ذاتی کوئی فائدہ نہیں اس لئے اس کی رائے کی نسبت یقین کیا گیا ہے کہ بالکل بے تعصب ہو گی اور محض ملک و ملت کا فائدہ اسے مدنظر ہو گا اور اس لئے بھی کہ ملک کی عام رائے کا نائب ہونے کے سبب سے یہ ایمان لایا جاتا ہے اور اسلام وعدہ کرتا ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے