انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 294

۲۹۴ خاص نصرت حاصل ہو گی پس اس کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی خاص ضرورت سے جو نہایت اہم ہو مشیر کاروں کی کثرت رائے کے فیصلہ کو رد کر دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔پس وہ خود مختار ہے ان معنوں میں کہ وہ شوریٰ کے فیصلہ کو مسترد کر سکتا ہے اور وہ پابند ہے ان معنوں میں کہ وہ اسلام کے مقرر کردہ نظام کے ماتحت ہے جسے بدلنے کا اسے اختیار نہیں اور وہ مجبور ہے اس پر کہ بغیر مشورہ کے کوئی فیصلہ نہ کرے اور اس پر کہ حکومت کو موروثی ہونے سے بچائے اور وہ منتخب ہے ان معنوں میں کہ خدا تعالیٰ لوگوں کے ذریعہ سے اسے منتخب کرواتا ہے اور نیابتی حیثیت رکھتا ہے ان معنوں میں کہ اس سے امید کی جاتی ہے کہ سوائے کسی غیر معمولی ضرورت کے اہم امور میں کثرت رائے کے خلاف نہ جائے اور یہ کہ اس کو اپنی ذات کے لئے بیت المال پر کوئی تصرف نہ ہو اور وہ آسمانی طاقت رکھتا ہے ان معنوں میں کہ اس کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ خدا تعالیٰ کی خاص نصرت اسے حاصل ہوتی ہے۔ان اصول کے علاوہ باقی تفاصیل شوریٰ کے انتخاب اور گورنروں کے انتخاب کے متعلق ضروریات وقت کا لحاظ رکھتے ہوئے اسلام نے جان بوجھ کر چھوڑ دی ہیں تاکہ انسانی دماغ کو فروعات میں اپنے طور پر غور کرنے اور ترقی کرنے کا موقع ملے جو خود انسانی عقل کے ارتقاء کے لئے ضروری امرہے۔قرآن کریم فرماتا ہے اے مسلمانو! ہر ایک تفصیل رسول سے نہ پوچھا کرو کیونکہ بعض باتیں خدا تعالیٰ خود چھوڑ دیتا ہے تا تمہارے اجتہاد کے لئے بھی ایک میدان باقی رہے اگر سب باتیں قرآن ہی بتا دے اور تمہاری دماغی ترقی کے لئے کوئی میدان نہ چھوڑے تو یہ امر تم کو تکلیف اور دکھ میں ڈالنے کا موجب ہو گا اور تمہاری ترقیات کے لئے حارج۔بے شک حکومتوں کے اور طریق بھی دنیا میں موجود ہیں لیکن ہر اک شخص جو اسلامی طریق حکومت پر غور کرے گا اس کو تسلیم کرنا ہو گا کہ اس سے بہتر او رکوئی طریق نہیں۔اس طریق میں ایک طرف تو بہترین نیابتی طریق حکومت شامل ہے اور دوسرے اس کو پارٹی فیلنگز سے بھی بالکل بالا کر دیا گیا ہے کیونکہ اسلامی حاکم کسی خاص پارٹی کی مدد یا نصرت کا محتاج نہیں ہوتا۔پس وہ صرف ملکی فائدہ کو مدنظر رکھتاہے۔عمر بھر کے لئے مقرر ہونے کے سبب سے بہترین دماغ ناقابل عمل اور متروک نہیں کئے جاتے بلکہ ملک کا ایک ایک شخص آخر تک ملک کی خدمت میں لگا رہتا ہے۔گورنروں کا انتخاب گو خلیفہ کے اختیار میں ہے مگر اس میں بھی لوگوں کی عام رائے کا خیال