انوارالعلوم (جلد 8) — Page 292
۲۹۲ کے لوگوں سے شروع کر کے حاکم کی طرف لےجایا گیا ہے۔میرے نزدیک اس کا پورا لطف حاصل نہیں ہو گا جب تک میں اس آیت کو ہی پیش نہ کر دوں جس میں اسلامی حکومت اور اس کے فرائض کو نہایت ہی مختصر لیکن محیط الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا(النساء:59) اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ حکومت کی امانتوں کو ان کے حق دار لوگوں کے سپرد کرو اور جب اے حاکمو! تم حاکم ہو جاؤ تو انصاف کے ساتھ حکمرانی کرو۔اللہ تعالیٰ جس امر کی تم کو نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہے اور اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔اس آیت میں پہلے تو عامۃ الناس کو مخاطب کیا ہے کہ حاکم بنانا تمہارے اختیار میں ہے تمہارے سوا اور کوئی شخص حاکم بنانے کا مجاز نہیں گویا ورثہ کے ذریعہ سے کوئی شخص حاکم نہیں بن سکتا۔کسی شخص کو حق نہیں کہ محض کسی کا بیٹا ہونے کے سبب سے لوگوں کی گردنوں پر حکومتوں کا جؤا رکھے۔دوسرا امر یہ بتایا کہ حکومت کے حقوق ایک قیمتی چیز ہیں جس طرح کہ امانت قیمتی ہوتی ہے پس کسی ایسے شخص کے سپرد نہ کرنا جو اس کے قابل نہ ہو بلکہ اسی شخص کے سپرد کرنا جو دیانتداری سے اس امانت کو محفوظ رکھے۔تیسرا حکم یہ دیا ہے کہ چونکہ حکومت کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ ان حقوق کو کسی شخص کے سپرد کر دینے کا نام ہے جن کو بوجہ بہت سے لوگوں کے اشتراک کے لوگ فرداً فرداً ادا نہیں کر سکتے اس لئے اس کو امانت خیال کرنا چاہئے کیونکہ وہ حقوق و فرائض جن کے مجموعے کا نام حکومت ہے کسی خاص شخص کی ملکیت نہیں بہ حیثیت مجموعی جماعت ان کی مالک ہے۔چوتھا حکم حاکم کو یہ دیا گیا ہے کہ جو کچھ تم کو دیا جاتا ہے وہ چونکہ بطور امانت کے ہے اس کو اسی طرح محفوظ بِلا خراب یا تباہ کرنے کے اپنی موت کے وقت واپس دینا ہو گا یعنی حکومت کی پوری حفاظت اور اہل ملک کے حقوق کی نگرانی رکھنی ہو گی اور یہ تمہارا اختیار نہ ہو گا کہ اس حق میں کوئی نقصان کر دو۔پانچواں امر اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ حکام کو چاہئے کہ دوران حکومت میں لوگوں کے حقوق کو پوری طرح ادا کریں اور کسی قسم کا فساد پیدا نہ کریں۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اس معاملہ میں کمزوری دکھائیں گے اور دوسری قوموں کی دیکھا دیکھی پھر