انوارالعلوم (جلد 8) — Page 280
انوار العلوم جلد ۸ ۲۸۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اٹھتے ۔ ۲۰۹ ۔ سفر میں جب لوگ اونٹوں کو تیز کرتے تو آپ فرماتے کہ شیشوں کا بھی خیال رکھو ۲۱۰ یعنی عورتیں ساتھ ہیں وہ تمہاری طرح تکلیف برداشت نہیں کر سکتیں اس لئے آہستہ چلو تا ان کو تکلیف نہ ہو۔ خاوندوں کو حکم دیا کہ سفر سے واپس آتے ہوئے گھر میں اچانک داخل نہ ہوں بلکہ دن کے وقت اور پہلے سے مطلع کر کے آئیں تاکہ عورتیں گھر کی اور بدن کی صفائی کا اہتمام کر لیں ۔ ۲۱۱ عورتوں کے متعلق یہ بھی حکم دیا کہ ان کو ان کے بچوں سے جدا نہ کیا جائے ۲۱۲۔ جس میں ایک عام قاعدہ بتایا ہے کہ عزیزوں اور رشتہ داروں کو آپس میں جدا نہ کرنا چاہئے بلکہ ان کو آپس میں ملنے کا موقع دیتے رہنا چاہئے۔ آپس کے تعلقات کو قطع کرنے والے سب امور سے منع فرمایا ہے مثلا یہ کہ کوئی کسی شخص پر الزام نہ لگائے اور اگر کوئی بدکاری کا الزام لگائے اور اس کو ثابت نہ کر سکے تو اسے سخت سزا دی جائے۔ اسی طرح حکم دیا کہ نکاح پر نکاح کی درخواست نہ دے ۲۱۳۔ اگر معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص کسی جگہ رشتہ کی تحریک کر رہا ہے تو گو اسے معلوم ہو کہ اگر میں درخواست دوں تو مجھے کامیابی کی زیادہ امید ہے اس وقت تک خاموش رہے جب تک پہلی درخواست کا فیصلہ نہ ہو جائے ۔ عام شہریت کے اصول ایک مسلمان شہری کے جو کام اسلام نے مقرر کئے ہیں اب میں ان میں سے بعض کا ذکر کرتا ہوں۔ ایک حق اسلام نے یہ مقرر کیا ہے کہ ہر ایک آدمی محنت کر کے کھائے اور ست نہ بیٹھے۔ رسول کریم اللہ نے فرمایا ۔ بہترین رزق وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے مہیا کرے اور فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کی عادت تھی کہ وہ ہاتھ کی محنت سے اپنا رزق پیدا کرتے تھے ۔ ۲۱۴۔ ایک فرض مسلم شہری کا اسلام نے یہ مقرر کیا ہے کہ وہ سوال نہ کرے۔ رسول کریم ا اس امر کے متعلق خاص طور پر خیال رکھتے تھے اور ہمیشہ سوال سے لوگوں کو منع کرتے رہتے حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم اللہ ﷺ نے فرمایا سوال صرف تین شخصوں کو جائز تھے۔ ۲۱۵