انوارالعلوم (جلد 8) — Page 281
أ۳۸ امیت لینی حقیقی اسلام ۲۱۹ ہے۔ایک اس شخص کو جو فقر سے نکلنے کی بہت کوشش کرتا ہے مگر اسے کوئی کام ہی نہیں ملایا وہ بالکل کام کرہی نہیں سکتا۔دوسرے وہ شخص جس پر کوئی الی چٹی پڑ گئی ہو جو اس کے خیال و گمان سے باہر تھی پی ایسے شخص کے لئے چندہ جمع کیا جاسکتا ہے اور تیسرے ان لوگوں کے لئے سوال جائز ہے کہ جن پر کوئی قومی جرمانہ آپ اور لین کسی شخص نے کوئی خون وغیرہ کر دیا ہو اور قوم پر تاوان پڑ گیا ہو تو وہ لوگ سوال کر سکتے ہیں۔ایک فرض مسلم شہری کا یہ ہے کہ جو شخص اس کے سامنے سے آنے اسے الدم علم کے ، جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالی کی طرف سے تم پر سلامتی ہو گویا بروقت تعلقات فی مابین کی درستی کی کوشش کر رہے۔پھر جو شخص آگاہ والے اور وہ واقف اور دوست ہو تو مسلم شہری کا فرض یہ ہے کہ اس سے مصافہ کرے۔اسی طرح مسلم شہریوں کے یہ فرائض مقرر کئے گئے ہیں کہ جو لوگ اپنے محلے کے یارو سرے واقفوں میں سے پیار ہوں ان کی عیادت کے لئے جائیں اور ان کی تستی اور تشتی کریں گھر میں میں تو پہلے اجازت لے لیں۔السلام علیکم کہیں اگر گھر میں کوئی ہو اور جواب دے کہ اس وقت نہیں مل سکتا تو بلا ملال کے واپس چلے جائیں۔اگر کوئی نہ ہو تو بھی واپس چلے جائیں۔۳۸۔اگر ان کے سامنے کوئی شخص کوئی ایسی بات کہہ دے جو کسی دوسرے شخص کے خلاف ہو تو اس کو دبا دیں اور اس شخص تک نہ پہنچائیں جس کو کی گئی ہے ورنہ رسول کریم القلع فرماتے ہیں کہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ بات ای نے کی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ کہنے والے کی مثال تو ایسی تھی کہ اس نے تیربارا اور لگا نہیں اور جس نے اس کو وہ پنچادی جس کے حق میں کی گئی تھی اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس نے تیر اٹھا کر اس شخص کے سینے میں چبھودیا۔اسی طرح مسلم شہریوں کا یہ فرض ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے اس کے جنازے کی تیاری میں مدد دیں اور قبر تک لے جائیں اور دفنائیں ۲۲۰ لیکن سب کے جانے کی ضرورت نہیں اگر | بقدر ضرورت آدمی چلے جائیں تو یہ کافی ہو گا۔لیکن اگر کوئی بھی نہ جائے تو سب گنہگار ہونگے اس فرض کی ادائیگی کا مسلمان اس قدر خیال رکھتے تھے کہ صحابہ کے زمانہ کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ غیرمذاہب کے لوگوں تک کے جنازوں کے ساتھ مسلمان جاتے تھے۔اسی طرح مسلم شہریوں کا فرض ہے کہ انکی باتیں جو وقار کے خلاف ہوں اور لوگوں کو ۲۱۸