انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 279

۲۷۹ مضبوط بنیاد پر قائم کر دیا ہے۔یتیم وہ ہیں جن کے ماں باپ نہیں ان کی خبرگیری کی ذمہ داری سوسائٹی پر رکھی کہ مالداروں کو چاہئے کہ ان کو اپنے بچوں کی طرح پالیں۔دوسری ذمہ داری یہ رکھی کہ مساکین جو بوجہ مال نہ ہونے کے کوئی کام نہیں کر سکتے ان کی مدد کریں اور ان کو کام کا موقع دیں اس کے بعد ان لوگوں کو لیا جو مالدار ہیں۔یعنی ہمسائے خواہ قریب کے ہوں خواہ دور کے یعنی گھر ے پاس جن کا گھر ہو یا شہر کے دور حصوں میں رہنے والے ہوں یا یہ کہ کسی دوسرے ہمسایہ شہر کے باشندے ہوں ان کی نسبت فرمایا کہ ان سے نیک سلوک کرو تاکہ محبت بڑھے اور تعلقات مضبوط ہوں۔پھر فرمایا کہ شریک فی العمل یعنی جو لوگ ساتھ ملازم ہوں یا تجارت یا پیشہ میں شریک ہوں ان کا بھی خاص حق ہوتا ہے ان کی بھی خاص مدد کرنی چاہئے۔اگرچہ میں مزدوروں اور پیشہ وروں کی مجالس کا تو قائل نہیں ہوں جو میرے نزدیک صرف یورپ کے تمدن کا نتیجہ ہیں اگر اسلامی تمدن کے قوانین کی اتباع کی جائے تو بِلا ایسی انجمنوں کے مزدوروں کے حقوق احسن طور پر ادا ہو سکتے ہیں مگر میرے نزدیک ایک قسم کی مؤاسات اور مشارکت کا اس حکم سے ضرور پتہ ملتا ہے اور اسلام ہمیں حکم دیتاہے کہ ایک پیشہ یا ایک کام کرنے والوں کو آپس میں خاص طور پر تعاون اور مدد سے کام لینا چاہئے۔سب سے آخر میں یہ حکم دیا کہ مسافر جو اپنے عزیز رشتہ داروں سے دور ہے اس سے نیک سلوک بھی تمہارا فرض ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ غریب مسافر سے نیک سلوک کریں بلکہ ہر مسافر کے متعلق حکم ہے خواہ وہ کتنا بھی امیر کیوں نہ ہو۔تاکہ دور و نزدیک محبت کا تعلق قائم ہو اور امن کی بنیاد رکھی جائے۔بڑوں سے چھوٹوں کے تعلق کے متعلق اسلام حکم دیتا ہے کہ لیس منا من لم یرحم صغیرنا و لم یؤقر کبیرنا یعنی جو بڑا ہو کر چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور چھوٹا ہو کر بڑوں کا ادب نہ کرے وہ ہمارے طریق پر نہیں۔اس حکم سے استاد اور شاگرد اور آقا اور ملازم اور اسی قسم کے اور سب تعلقات کے متعلق ایک اصولی ہدایت دی گئی ہے۔عورت اور مرد کے عام تعلقات کے متعلق یہ تعلیم دی ہے کہ مردوں کو عورتوں کے آرام کا خیال رکھنا چاہئے چنانچہ رسول کریم ﷺ نماز کے بعد تھوڑی دیر بیٹھے رہتے تاکہ پہلے عورتیں آرام سے گزر جائیں۔تب وہ گزر جاتیں تو پھر آپؐ اٹھتے اور دوسرے مرد بھی آپؐ کے ساتھ