انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 134

۱۳۴ 2۔یہ بتانا کہ بندے کو خدا سے کیا تعلق ہونا چاہئے۔3۔یہ بتانا کہ کن اعمال سے بندہ اس تعلق کا اظہار کرے یا یہ کہ بندہ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ذمہ دایاں ہیں۔4۔خدا تعالیٰ سے ملنے کا راستہ بتائے اور اس غرض کو اسی دنیا میں پورا کر کے دکھائے تاکہ انسان خدا تعالیٰ کے متعلق ظنی علم سے گذر کر یقین کے درجہ تک پہنچ سکے۔دوسرا مقصد مذہب کا یہ ہے کہ وہ انسان کو کامل اخلاقی تعلیم دے۔اس مقصد کے پورا کرنے کے لئے بھی مندرجہ ذیل سات امور کا بیان کرنا ضروری ہے۔(1)اخلاق حسنہ کیا ہیں (2) اخلاق سیئہ کیا ہیں (3) یہ کہ اخلاق حسنہ کے مختلف مدارج کیا ہیں (4) اخلاق سیئہ کے مختلف مدارج کیا ہیں (5) کسی امر کو بدی اور کسی کو نیکی کیوں قرار دیا گیا ہے (6) وہ ذرائع کیا ہیں جن کی مدد سے انسان اخلاق حسنہ کو اختیار کر سکتا ہے (7) وہ ذرائع کیا ہیں جن کی مدد سے انسان اخلاق سیئہ سے بچ سکتا ہے۔اخلاق حسنہ کے بیان میں ان سات امور کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے بغیر اس کے یہ مقصد ہرگز پورا نہیں ہو سکتا۔تیسرا مقصد مذہب کا بنی نوع انسان کی تمدنی ضروریات کا حل ہے کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے انسان کو مدنی الطبع پیدا کیا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس کے لئے ایسے اصولی قواعد تجویز فرمائے جن کے ذریعہ سے دنیا میں امن اور امان قائم ہو اور ہر ایک طبقہ اور فرقہ کے لوگ اپنے حقوق کے اندر رہیں اور کوئی کسی کے حق کو دانستہ یا نادانستہ نہ دبا سکے اگر غور کیا جائے سوائے اللہ تعالیٰ کے سوسائٹی کے حقوق کو دوسری کوئی ہستی بیان ہی نہیں کر سکتی کیونکہ دوسرے تمام لوگ اپنے ذاتی فوائد کی وجہ سے اس وسعت نظر سے محروم ہوتے ہیں جو اس کام کے لئے ضروری ہے پس ان قواعد کا بیان کرنا جو تمدن انسانی کے لئے بمنزلہ اساس کے ہوں مذہب کے اہم فرائض میں سے ہے اور جو مذہب اس مقصد کو پورا نہیں کرتا وہ ہرگز مذہب کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔اس مقصد کے پورا کرنے کے لئے مندرجہ ذیل امور پر روشنی ڈالنا مذہب کا فرض ہے۔1۔امور خانہ داری یعنی رشتہ داروں سے رشتہ داروں کے تعلقات اور ان کے باہمی حقوق پر کہ یہ تمدن انسانی کا پہلا ٹکڑا ہے۔